fbpx

یوں تو ہر دور میں معاشرے کو مختلف مسائل کا سامنا رہا ہے لیکن ایک مسئلہ جو آج کل کے دور میں والدین کے لئے پریشانی کا باعث ہے وہ ہے اچھے رشتے کی تلاش۔ رشتہ اور نسبت طے کرنا اور اسے بخیر و عافیت شادی تک پہنچانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ ٹیکنالوجی کی اتنی ترقی کے باوجود بھی آج لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے اچھے اور مناسب رشتے ملنا بہت دشوار ہوتا جا رہا ہے۔دنیا گلوبل ویلیج بن چکی ہے۔ انسان لمحوں میں دنیا کے دوسرے کونے میں موجود لوگوں سے رابطہ کر سکتا ہے، ان کے بارے میں جان سکتا ہے۔ لیکن رشتوں اور شادی کا مسئلہ ہر گزرتے دن کے ساتھ گھمبیر ہوتا جا رہا ہے۔ لوگوں کی خواہشات اور ترجیحات میں اضافے کی وجہ سے اچھے لڑکے اور لڑکیاں نایاب بلکہ کم یاب ہوتے جا رہے ہیں۔ ویسے تو اچھے لڑکے اور لڑکی کی تعریف بھی زمانے کے حساب سے بدلتی رہی ہے۔ وہ خوبیاں جو چند دہائیوں پہلے تک لڑکیوں سے منسوب تھیں جیسا کہ سلیقہ مندی، ماہر امور خانہ داری، دیندار اور گھر کو چلانے والی، اب تبدیل ہو گئی ہیں۔ اب والدین اور لڑکے کو پر اعتماد، اور ملازمت پیشہ لڑکی کی تلاش ہے۔  
کہا جاتا ہے کہ رشتے آسمانوں پر طے ہوتے ہیں اور ہر انسان کا جوڑا لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔ کس کو کیسا جیون ساتھی ملنا ہے یہ اس کی تقدیر میں پہلے سے لکھا جا چکا ہے۔ لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ انسان ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا رہے اور یہ امید کرے کہ اس کا جوڑا اس تک خود بخود پہنچ جائے گا۔ بلکہ تدبیر اور حیلہ انسان نے ہی کرنا ہے۔ اسے شعور اسی لئے دیا گیا کہ وہ اپنی زندگی کے فیصلے کرے۔ فیصلے کے صحیح یا غلط ہونے کی بحث ایک الگ چیز ہے۔ بہ ہر حال انسان کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ تدبیر اور دعا سے اپنی قسمت تبدیل کر سکتا ہے۔ 

لوگوں کی بڑھتی ہوئی خواہشات اور معیار کے ساتھ ساتھ میڈیا کی ترقی نے والدین کے ساتھ ساتھ لڑکی اور لڑکے کی سوچ کو بھی اتنا تبدیل کر دیا ہے کہ وہ اپنے آئیڈیل سے کم کسی کو قبول کرنےپر تیار ہی نہیں ہوتے۔ جبکہ زندگی کی حقیقت اور سچائی کچھ اور ہے۔ اس کا اندازہ انہیں تب ہوتا ہے جب وہ عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں۔ شادی کے بعد انہیں نہ صرف شوہر اور بیوی کے حقوق و فرائض پورے کرنے پڑتے ہیں بلکہ رشتہ داریوں کو کیسے نبھانا ہے ان میں توازن قائم کیسے رکھنا ہے۔ اس سب سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔ جس پھولوں کی سیج کا تصور کئے اور خواب سجائے وہ زندگی کے اس نئے راستے پر قدم رکھتے ہیں اس کی حقیقتوں کا اندازہ انہیں چند دن میں ہی ہو جاتا ہے۔ رشتہ کی تلاش کے وقت صرف دولت، شان و شوکت اور ظاہری معیارکو مدنظر رکھنے اور اہمیت دینے سے مختلف مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ 

اچھے رشتے ملنا اور پھر انہیں نبھانا ایک توجہ طلب موضوع ہے۔ آج کل اکثریت کی خواہش ہوتی ہے کہ لڑکی خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ تعلیم یافتہ اور ٹرک بھر کر جہیز لائے۔ خواہ ان کا لڑکا اس کے معیار پر پورا اترتا ہو یا نہیں۔ بات صرف یہیں نہیں رکتی۔ بیٹے کو کاروبار شروع کروا کر دینے، پلاٹ، گھر اور گاڑی جیسی فرمائشیں عام ہو چکی ہیں۔ بہت سے رشتے ان وجوہات کی بناء پر ٹوٹتے دیکھے گئے ہیں۔ یہاں تک کہ شادی کے بعد پوری نہ ہونے والی فرمائشوں پر نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہے۔ 

لڑکا اگر ایسی خواہش نہ بھی رکھتا ہو تو اسے والدین کی جانب سے دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جنہوں نے برادری میں اپنی ناک اونچی رکھنی ہوتی ہے۔ لڑکی کے والدین جہیز جمع کرتے ہی اس دنیا سے چلے جاتے ہیں اور کتنی ہی لڑکیوں کے سر میں چاندی اتر آتی ہے۔ 

 سمپل رشتہ جو پاکستان کی ایک ابھرتی ہوئی رشتہ ویب سائٹ ہے۔ ان کے اعداد و شمار کے مطابق زیادہ تر لڑکوں کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ لڑکی امیر خاندان سے تعلق رکھتی ہو خواہ طلاق یافتہ، بیوہ اور زیادہ عمر کی ہو۔ ایسے رشتے جوڑنے کے پیچھے محض دنیاوی فائدہ ہوتا ہے۔ جو جلد یا بدیر سامنے آ جاتا ہے اور توقعات پوری نہ ہونے کی صورت میں رشتہ ختم ہونے کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔ لڑکوں کو برطانیہ یا امریکہ میں مقیم خاندان سے رشتہ چاہئیے ہوتا ہے اورساتھ دینداری اور شرافت کی شرط رکھ دی جاتی ہے۔ ایسے مادر پدر آزاد معاشروں میں جہاں نوجوانوں کو خاص کر ہر قسم کی آزادی حاصل ہے اور وہ اپنے فیصلے کرنے میں خود مختار ہوتے ہیں۔ اٹھارہ سال کی عمر سے ہی وہ اپنے ماں باپ سے الگ ہو کر اپنی دنیا بسا لیتے ہیں ، انہیں رشتوں کی اہمیت اور نزاکت کا علم کیسے ہو سکتا ہے۔ وہ شادی کے بعد خاندان کو جوڑ کر رکھیں یا جوائنٹ فیملی میں رہنا قبول کریں گے، یا کسی ایسے شخص سے شادی کریں گے جو زندگی کی گاڑی چلانے کے لئے ان کے کاندھے کا سہارا ڈھونڈ رہا ہو، ان سے ایسی توقع رکھنا عبث ہے۔ 

بعض اوقات لڑکے کے دوست یارشتہ دار ہی اس کی مناسب عمر میں شادی میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ خاص کر وہ دوست جن کو قسمت سے کسی اچھے خاندان کا رشتہ مل جائے یا بیرون ملک مقیم کوئی فیملی انہیں بیٹی سے شادی کے عوض باہر بلالے۔ایسے لوگ اپنے دوستوں یا رشتہ داروں کے لئے ایک آئیڈیل کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ اور پھر ہر لڑکے کی خواہش ہوتی ہے کہ کوئی جادو کی چھڑی گھمائے اور انہیں بھی ویسا رشتہ مل جائے۔ بہت سے لوگ اس مقصد کے لئے ان ویب سائٹس کا انتخاب بھی کرتے یں جو یورپی ممالک میں خالصتا اس مقصد کے لئے بنائی گئی ہیں کہ جہاں محض تعلق قائم کرنے اور وقت گزاری کے لئے لوگ ساتھی تلاش کرتے ہیں۔ ان کے آزاد ماحول سے متاثر ہو کر بہت سے نوجوان مشرقی معاشروں میں ایسے جیون ساتھی کی تلاش شروع کر دیتے ہیں۔ جو ملنا نہایت مشکل ہے۔ 

دوسرا ایک نہایت اہم مسئلہ یہ ہے کہ رشتہ دیکھنے گھر کے بہت زیادہ لوگ چلے جاتے ہیں۔ ہر کوئی اپنے نقطہ نظر سے لڑکی یا لرکے کو جانچتا ہے۔ اور اکثر معمولی باتوں کو بنیاد بنا کر رشتے سے انکار کر دیا جاتا ہے۔ جیسا کہ لڑکی کی آنکھیں چھوٹی ہیں۔ ناک موٹی ہے، چائے اچھی نیں تھی۔ لوازمات پیش کرنے کا سلیقہ نہیں تھا۔ کھانے میں نمک مرچ بہت کم تھی۔ ی الڑکے کا قد چھوٹا ہے۔ سرکاری نوکری نہیں ہے۔ گھر کرائے کا ہے۔ لڑکا نظر کا چشمہ لگاتا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ 

ایسا محسوس ہونے لگتا ہے کہ والدین ہونا جرم ہے، پے در پے رشتوں سے انکار پر اکثر بات اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ والدین پریشان ہو کر کسی بھی آنے والے رشتے کے لئے ہاں کر دیتے ہیں اور اسے نصیب اور قسمت سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ بعض اوقات خاندان والوں کے دباؤ کا شکار ہو کر والدین کوئی غلط فیصلہ کر لیتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سب سے پہلے رشتہ کی تلاش میں اپنے معیار کو تبدیل کیا جائے، دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ  دینی تعلیم کو اہمیت دی جائے، ایسے رشتے تلاش کئے جائیں جو دینی و دنیاوی دونوں لحاظ سے بچوں کے حق میں بہتر ہوں۔ تعلیمی قابلیت، عمر اور رتبہ میں انیس بیس کے فرق کو کھلے دل سے قبول کیا جائے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکیاں اگر ملازمت بھی کرنے لگیں تو اکثر والدین ان پر مالی انحصار کرنا شروع کردیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے لڑکیوںکی شادی میں تاخیر ہوتی چلی جاتی ہے۔ یا پھر ان کے لئے اتنا ہی تعلیم یافتہ لڑکا ڈھونڈنے میں عمر ضائع کر دی جاتی ہے۔ شادی میں تاخیر کرنا انفرادی اور اجتماعی دونوں سطح پر مناسب نہیں۔ کچھ باتوں پر سمجھوتہ کر کے رشتہ قائم کرلینا ہی دانشمندی ہے۔ اس کےلیے معاشرے میں شعور اجاگر کرنا نہایت ضروری ہے۔ سمپل رشتہ شادی کی ویب سائٹ ہونے کے ساتھ ساتھ معاشرتی مسائل پر آگاہی دینے کی بھی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے بزرگوں، اساتذہ، سرکاری و غیر سرکاری تنظیموں اور خاص کر پرنٹ، الیکٹرانک اور خاص کر سوشل میڈیا کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔