ہجرت کرنا اور سمندر پار جانا زمانہ قدیم سے انسانی روایت رہی ہے۔ انسان نے ہمیشہ دور دراز کے سفر، وادیوں،  پہاڑوں اور سرسبز چراگاہوں کی تلاش کی ہے۔ محرک انسان کی موجودہ سے زیادہ حاصل کرنے کی خواہش اور ضرورت ہے۔ اوراس کی جبلت جو اسے مزید سے مزید حاصل کرنے کی غرض سے مسلسل سفر میں رکھتی ہے۔ یہی حال آج کے بیشتر پاکستانی نوجوانوں کا ہے۔ تاہم، محرک اب غیرملکی سرزمین کے لیے تجسس یا علم کے لیے جدوجہد نہیں ہے۔ یہ سب زمانہ قدیم کے انسان کی فطرت تھی۔ اب ہجرت کا مقصد ‘بقا’ ہے۔ سمپل رشتہ اس بلاگ میں بیرون ملک مقیم شوہر سے مضبوط تعلق کی چند تجاویز پیش کر رہا ہے۔  

ایک وقت تھا کہ حکومت کی طرف سے ملازمت کے مواقع نکلتے رہتے تھے۔ لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی حالات نے عوام کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے۔ میڈیا نے بھی بیرون ملک کا پرکشش تاثر بنانے میں بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تقریباً ہر دوسرا آدمی بہتر مستقبل کے لیے بیرون ملک جانا چاہتا ہے۔

 بیرون ملک منتقل ہونا نہ صرف آپکی پیشہ ورانہ بلکہ ذاتی زندگی پر بھی بہت اثر انداز ہوتا ہے۔ لیکن کسی دوسرے ملک میں نوکری کرنے کا مطلب یہ ہے۔ کہ آپ اپنے خاندان سے الگ اوردور رہنا پڑے گا۔ اب یہاں پر چند سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ جن کا بیرون ملک ہجرت سے پہلے جواب آپ کو معلوم ہونا چاہئیے۔

 "بیرون ملک ملازمت کا آپ کی شادی شدہ زندگی پر کیا اثر پڑے گا”

"کیا شادی کے بعد کسی دوسرے ملک میں نوکری کرنے کا خیال درست ہے؟”

"بیرون ملک ملازمت کی صورت میں بیوی کے ساتھ صحت مندانہ تعلق کیسے رکھنا ہو گا؟”

ان سوالات کے جوابات دینا اگر آپ کے لئے مشکل ہے تو فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ٹیم سمپل رشتہ نے اس بار اس موضوع  کا انتخاب کیا ہے۔ تاکہ وہ تمام خواتین و حضرات جنہیں اس مسئلے کا سامنا ہے۔ انہیں اپنے فاصلاتی تعلقات کو قائم رکھنے اور بہتر بنانے کے لئے تجاویز دی جا سکیں ۔ اس بلاگ کے اختتام تک، آپ ان تجاویز کو نشان زد کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔ جنہیں آپ استعمال کر رہے ہیں۔ یا جو تجاویز بحثیت بیرون ملک مقیم شوہرآپ اپنے رشتے کو بہتر بنانے کیلئے استعمال کر سکتے ہیں۔

شادی شدہ زندگی میں اعتبار، خلوص، سمجھداری اور بھروسہ جیسی خصوصیات کے ساتھ محبت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ جو آپ کو ذہنی اور جسمانی طور پر تروتازہ اور آسودہ رکھتی ہے۔

 شادی کے بعد اگر ایسے حالات پیش آئیں کہ آپ کو اپنے شریک حیات سے دور رہنا پڑے۔ تو آپ  کو کیسا طرز عمل اور رویہ اختیار کرنا ہے۔ ایسے رشتوں کو توجہ اور محبت کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ اور آپ کو ایسے اقدامات کرنا ہوتے ہیں۔ کہ آپ اور آپ کا جیون ساتھی جسمانی طور پر دور ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے جڑے رہیں۔

چند اہم نکات:

روزمرہ کی گفتگو، اپنے جذبات کا احساس دلانا اور حالات و واقعات سے اپنے شریک حیات کو آگاہ رکھنا۔ قربت کے احساس کو زندہ رکھتا ہے۔ کیونکہ شریک حیات سے الگ ہونے کی صورت میں جسمانی پہلو پر بحث نہ بھی کی جائے۔ تو جذباتی تناؤ سے مفر ممکن نہیں۔ ذیل میں چند نکات دئیے گئے ہیں۔ جن پر عمل پیرا ہو کر آپ اپنی شادی اور بیرون ملک مقیم شوہر کے ساتھ اپنے رشتے کو مضبوط بنا سکتی ہیں۔ اور ان نکات کی روشنی میں شوہر بھی بیوی کے ساتھ بہترین رابطہ قائم رکھ سکتا ہے۔

رابطے میں رہنا:

آج کل کے ڈیجیٹل دور میں، ایک دوسرے سے رابطے میں رہنا نہایت آسان ہے۔ بہت سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم اور ایپس ایسی ہیں۔ جو آپ کو اپنے شریک حیات سے دوری کا احساس نہیں ہونے دیں گی۔ فیس بک اور انسٹاگرام پر آپ اپنے معمولات یا خاص مواقع کی معلومات دے سکتی ہیں۔ واٹس ایپ پر پیغامات بھیجنے اور کال کی سہولت موجود ہے۔ اس کے علاوہ بھی بے انتہا ایپس موجود ہیں۔ جو شادی شدہ جوڑے استعمال کر کے اپنے دور ہونے کے احساس کو کم کر سکتے ہیں۔

اگر اس ڈیجیٹل دور میں بھی آپ اپنے شوہر یا بیوی سے بات کیے بغیر دن گزار دیتے ہیں۔ تو یہ ایک بیوقوفانہ طرز عمل ہی ہو گا۔ اپنے کام سے فارغ ہو کر شریک حیات سے بات کریں۔ انہیں اپنے دن بھر کے معمولات یا خاص کاموں کے بارے میں بتائیں جو آپ نے کئے ہیں۔

بیرون ملک مقیم شوہر کی طرف سے اچانک کی گئی "فون کال” ایک اچھا سرپرائز ثابت ہوسکتی ہے۔ اس سے آپکو ایک دوسرے سے جڑے رہنے اور اپنے جیون ساتھی کو قریب محسوس کرنے میں مدد ملے گی۔

لائحہ عمل ترتیب دینا:

اگر آپ کے شریک حیات کسی ایسے ملک میں ہیں جہاں وقت کا فرق ہے۔ تو یہ رابطے کو تھوڑا مشکل بنا سکتا ہے۔ لیکن یہ مسئلہ بھی حل ہو سکتا ہے۔ آپ دونوں اپنے لائحہ عمل کو باہمی گفت و شنید سے طے کر سکتے ہیں۔ اور بات چیت کا ایک وقت مقرر کر سکتے ہیں۔ تا کہ دونوں دن بھر کی تھکن کے بعد کچھ وقت اپنے لئے نکالیں۔ اور اپنے مستقبل کی پلاننگ کریں۔ پیغامات تو آپ دونوں اپنی سہولت کے مطابق کسی بھی وقت بھیج سکتے ہیں۔ لیکن کال کا وقت مقرر کیا جا سکتا ہے۔ یہ نہایت اہم ہے۔ اور آپ کی روزمرہ زندگی کا ایک حصہ بھی۔

معمولات سے باخبر رکھنا:

چونکہ آپ دونوں زیادہ تر وقت الگ الگ گزارتے ہیں۔ اس لیے ویک اینڈ پر خاص کر ویڈیو کالز کو اپنا معمول بنائیں۔ اگر آپ اپنی فیملی یا دوستوں کے ساتھ باہر جاتے ہیں۔ تو اپنے شریک حیات کو ضرور آگاہ کریں۔ بیرون ملک مقیم شوہر کو اپنی زندگی میں ان کی کمی کا احساس نہ ہونے دیں۔ اپنی تیاری کے حوالے سے ان سے مشورہ لیں۔ آپ کہاں جا رہے ہیں۔ کس کے ساتھ جا رہے ہیں۔ کیا پہن رہے ہیں۔ یہ سب اگرچہ بہت چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں۔ لیکن یہ آپ کے شریک حیات کو احساس دلائیں گی کہ ان کی زندگی میں آپ کی کتنی اہمیت ہے۔ 

شریک حیات بنیں جاسوس نہیں:

 اگر آپ اپنے شوہر کی بیرون ملک ملازمت کو تسلیم کرتی ہیں۔ تو پھر ان پر پورا اعتماد رکھیں۔ ان کے ہر لمحے کے معمولات سے باخبر رہنے کی کوشش نہ کریں۔ کہ وہ کہاں گئے یا کیوں گئے۔ یاد رکھئیے، احساس کرنے یا خیال رکھنےاور جاسوسی کرنے میں بہت فرق ہے۔ یہی بات شوہر پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ کہ وہ بیوی کو گھر کا ذمہ دار بنا کر گیا ہے تو اس پر بھروسہ رکھے۔ اس مشورے کو شوہر اور بیوی دونوں سنجیدگی سے لیں۔ اور یقینی بنائیں کہ آپ ایک دوسرے کی جاسوسی نہیں کر رہے ہیں۔

آپ کے شریک حیات اپنا فون کیوں نہیں اٹھا رہے؟

 انہوں نے آپ کو سارے دن میں کوئی پیغام کیوں  نہیں بھیجا؟

یا ایسے سوالات کو اپنے دل و دماغ میں بالکل جگہ نہ دیں کہ

وہ کس سے بات کررہے ہیں؟

کہیں وہ مجھے دھوکہ تو نہیں دے رہے؟

شریک حیات نظر سے دور ہو تو ایسےخیالات کا آنا معمول کی بات ہے۔ لیکن آپ اپنے ذہن کو پرسکون رکھیں۔ اور اپنے شریک حیات پر بھروسہ رکھیں۔  اعتماد ایک ایسی چیز ہے۔ جو آپ کی ازدواجی زندگی کو خوشگوار رکھنے میں نہایت معاون ثابت ہوتی ہے۔

رابطے کے مختلف ذرائع استعمال کرنا:

بعض اوقات ایک ہی طریقے اور ذریعہ سے بات کرنا بوریت کا شکار کر دیتا ہے۔ ایک خوشگوار تبدیلی لانے کی خاطر فون یا ویڈیو کال کے علاوہ دیگر ذرائع استعمال کریں۔ خط لکھنا اگرچہ پرانی روایت ہے۔  لیکن اس کی اہمیت ٹیکنالوجی کے اس دور میں بھی کم نہیں ہوئی۔ اپنے بیرون ملک مقیم شوہر کو تبدیلی کا احساس دلانے کے لئے خط لکھیں۔ اسی طرح شوہر اپنی بیوی کو رومانوی نظمیں بھیجیں۔ ای میل کریں۔ تا کہ آپ دونوں ہی یکسانیت کا شکار نہ ہوں۔

سوشل میڈیا کو اس مقصد کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ وہاں فیملی گروپس بنائیں۔ کسی اچھی پوسٹ پر شریک حیات کو ٹیگ کر دیں۔ زندگی کے اہم مواقع سے متعلق تصاویر ان کے ساتھ شیئر کریں۔ یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں آپ دونوں کو ایک دوسرے میں مگن رکھنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔

قربت محسوس کروانا:

 الگ ہونے کے باوجود شوہر اور بیوی دونوں ایک دوسرے کے لیے وقت نکالیں۔ جس کے لئے ذیل میں کچھ تجاویز دی جا رہی ہیں۔

۱- فیس ٹائم یا اسکائپ کا استعمال کریں۔ اوراپنے بیرون ملک مقیم شوہر کے ساتھ آن لائن فلم یا ٹی وی شو دیکھیں۔

۲- اپنے شریک حیات کے ساتھ آن لائن گیمز کھیلیں

۳- کمرے میں اپنی شادی یا فیملی کی تصاویر لگائیں۔

۴- اپنے شریک حیات کو اپنی قربت محسوس کروانے کے لئےاپنی ذاتی تصاویر سے مزین تکیہ یا کمبل دیں۔

تحائف کی تبدیلی:

یہ ایک سنہری نصیحت ہے کہ انسان وقتاً فوقتاً اپنی بیوی کو ہدیہ اور تحفہ دیتا رہے۔ تحفہ دینے سے آپس میں محبت بڑھتی ہے۔ تحفے کا تصورہے بہت خوبصورت ہوتا ہے۔ اس میں محبت، چاہت، عزت ، احترام اوردینے والے کے جذبات پنہاں ہوتے ہیں۔ تحفہ لینا اور دینا زندگی کا لازمی جزو ہونا چاہئے۔

ہمارے معاشرے میں رائج ہے کہ تحفہ ہمیشہ خوشی کے موقع پر دیا جاتا ہے۔ اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔ لیکن تحفہ دینے کے لیے کسی خاص موقع کا انتظار کیا جائے۔ توآپ چاہت ومحبت کے وہ جذبات اپنے شریک حیات تک نہیں پہنچا سکتے۔ جو تحفے کا حاصل ہونا چاہیں۔ تحائف کو خاص موقعوں تک محدود کرکے اس کی اصل روح اور مقصد مجروح ہو جاتا ہے۔ اور تحفہ محض ایک رسم بن کر رہ جاتا ہے۔

تحائف دینا صرف شوہر کی ہی ذمہ داری نہیں ہے۔ بلکہ بیوی کے لئے لازمی ہے کہ کبھی کبھار شوہر کو تحفہ دیا کرے۔ خاص کر اگربیرون ملک مقیم شوہر کے لئے عید تہوار پر کپڑے اور مٹھائی لازمی بھجوائیں۔ اس کے علاوہ بھی موسمی لباس، کھانے پینے کی چیزیں با آسانی بھجوائی جا سکتی ہیں۔ یہ چھوٹے چھوٹے اقدام شوہر کے دل میں بیوی کی عزت اور محبت بڑھاتے ہیں۔

سرپرائز وزٹ:

شوہر کے لئے جب ممکن ہو وہ اپنی فیملی سے ملنے کے لئے وقت نکالے۔ کبھی کبھار کا سرپرائز وزٹ آپ اور آپ کے شریک حیات کو خوشیاں فراہم کر سکتا ہے۔ سہ ماہی یا کم از کم ایک سال کے بعد شوہر کو گھر والوں سے ملنے ضرور آنا چاہئیے۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو فیملی کو چند دن کے لئے اپنے پاس بلا سکتا ہے۔ یا کسی اور جگہ سیر کروانے لے جا سکتا ہے۔ اس طرح شوہر اور بیوی دونوں معمول سے ہٹ کر کچھ وقت ساتھ گزاریں گے۔ تو دونوں کے مزاج اور زندگی پر اچھا اثر پڑے گا۔

مستقبل کی منصوبہ بندی:

شریک حیات کے ساتھ مستقبل کی منصوبہ بندی نہایت ضروری ہے۔ آپ خواہ قلیل مدتی پلان بنائیں یا طویل مدتی۔ وہ پورے اسی صورت میں ہوں گے جب آپ دونوں اس کی باقاعدہ پلاننگ کریں۔ اور ان کی تکمیل کی کوشش کریں۔

آپ کے شریک حیات بیرون ملک ملازمت اسی لئے کر رہے ہیں۔ تا کہ اپنی فیملی کو آرام دہ ماحول اور خوشگوار زندگی فراہم کر سکیں۔ بیوی کے لئے لازم ہے کہ شوہر کی کمائی کو غیر ضروری اخراجات میں نہ اڑائے۔ تا کہ چند سال بعد جب بیرون ملک مقیم شوہر مستقل طور پر واپس آئے۔ تو کم از کم اتنی بچت ضرور ہو کہ وہ کوئی کاروبار شروع کر سکے۔ یا اپنی آئندہ زندگی سکون سے گزار سکے۔

آپ نے گاڑی لینی ہے، گھر بنانا ہے۔ بچوں کی تعلیم اور شادیوں کے لے پس انداز کرنا ہے۔ خاندان میں ہونے والی تقریبات اور حادثات پر ہونے والے اخراجات ہوں۔ یا صحت اور علاج معالجے کے لئے رقم درکار ہو۔ اس سب کی منصوبہ بندی آپ کو پہلے سے کرنی ہے۔ تا کہ وقت آنے پر کوئی مشکل پیش نہ آئے۔

شوہر کی کمائی میں اس کے والدین کا بھی حق ہے۔ ان کے اخراجات کے لئے رقم مختص کرنا۔ بہن اور بھائیوں کے تحائف کے لئے بھی کچھ رقم الگ سے رکھنی چاہئیے۔ کیونکہ شوہر کی غیر موجودگی میں آپ کے میکے اور سسرال والے ہی آپ کا خیال رکھتے ہیں۔

اپنے اہداف سے مطلع رکھنا:

شوہر اور بیوی جو بھی منصوبہ بندی کریں۔ اور اس کے لئے اہداف مقرر کریں۔ ان کی صورتحال سے ایک دوسرے کو باخبر ضرور رکھیں۔ بچوں کا داخلہ کسی اچھے سکول کالج میں کروانا ہے۔ یا ان کی فیس ادا کرنی ہے۔ والدین کا علاج کروانا ہے۔ گھریلو اخراجات پر خرچ کی گئی رقم، ان سب کا حساب کتاب ضرور رکھیں۔ اورماہانہ بنیادوں پرایک دوسرے کے علم میں ضرور لائیں۔

معاشی اور معاشرتی تبدیلیوں کا موازنہ کرنا:

ملکی حالات پر تبادلہ خیال، مہنگائی، معاشی اور معاشرتی حالات پرآپس میں بات چیت  ضرور کریں۔ یہ سوچ کر خاموش نہ رہیں کہ مجھے تو ملکی حالات کے بارے میں کچھ علم نہیں۔ یا میں خاتون خانہ ہوں ایسی باتوں کی مجھے کیا خبر۔ ان سب باتوں کے لئے آپ کا تعلیم یافتہ ہونا ضروری نہیں۔ بلکہ سمجھدار اور باشعور ہونا ضروری ہے۔ 

سسرال اور میکہ کے معمولات سے با خبر رکھنا:

شوہر کو اپنے میکے اور سسرال کے حالات و واقعات کی باقاعدگی سے خبر دیں۔ ایک شخص اسی صورت میں پر سکون ہو کر کام کر سکتا ہے۔ اگر اسے پتا ہو کہ اس کا خاندان سکون سے اور آرام دہ زندگی گزار رہا ہے۔ ایک مرد پر اس کی بیوی بچوں کے ساتھ والدین اور بہن بھائیوں کا بھی پورا حق ہے۔ اس کے علاوہ شوہر کو اپنے میکے کی بھی خیر خبر دینا ضروری ہے۔ کیونکہ بیوی کی نسبت سے کچھ تعلق ان کا بھی بنتا ہے۔

خاندان کی اہم تقاریب اور حادثات و واقعات کی خبر دینا:

اپنے ملک اور فیملی سے دور رہنے والا شخص بہت تنہا اورحساس ہو جاتا ہے۔ خاندان میں ہونے والی چھوٹی بڑی تقاریب۔ ان کی تیاری اور شمولیت کے علاوہ کسی حادثے یا غیر معمولی واقعہ کا ذکر شوہر سے ضرور کریں۔ اس طرح کم از کم وہ پردیس میں خود کو تنہا محسوس نہیں کریں گے۔ اور ایسے مواقع اسے خاندان والوں کے ساتھ رابطہ اور تعلق برقرار رکھنے میں مدد دیں گے۔

شریک حیات سے وفادار رہنا:

بیرون ملک ملازمت یا کاروبار جیسے حالات ہوں۔ توشریعتِ مطہرہ کے مطابق میاں بیوی کے ایک دوسرے سے دور رہنے کی کوئی مدت مقرر نہیں۔ شوہر اور بیوی جتنا عرصہ بھی ایک دوسرے سے دور رہیں۔ اس سے اُن کے رشتے پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ لیکن آپ اپنے شریک حیات کے قریب ہیں یا دور۔ ہر دو صورتوں میں وفادار رہنا اور پوری دیانتداری سے رشتہ نبھانا شوہر اور بیوی دونوں کی ذمہ داری ہے۔

کسی بھی معاملے میں جھوٹ بولنے سے گریز کریں۔ شوہر گھر سے دور اسی صورت میں پر سکون رہ سکتا ہے۔ جب اسے علم ہو۔ کہ اس کی بیوی اس کی غیر موجودگی میں بچوں اور گھر والوں کا خیال رکھ لے گی۔ ان کے ساتھ اچھے سے نباہ کر لے گی۔ اور اس کی وفادار رہے گی۔

 اسی طرح ایک بیوی بھی شوہر سے دوری اسی صورت میں برداشت کر سکتی ہے۔ جب اسے یقین ہو کہ اس کا شوہر وفادار ہے۔

آپ نے آج کا بلاگ پڑھ لیا ہے۔ ہم یہ جاننا چاہیں گے کہ

 "کیا آپ بھی ایک بیرون ملک مقیم شوہر ہیں؟”

یا "آپ ایک بیوی ہیں جن کے شوہر بیرون ملک ملازمت کرتے ہیں؟”

آپ اپنے تعلقات کو مضبوط بنانے کے لئے کیا اقدامات کرتے ہیں؟ ہمیں آپ کے تبصروں کا انتظار رہے گا۔ کیا آپ ہمارے مستقبل میں آنے والے بلاگ پڑھنا چاہتے ہیں؟ اس کے لئے آپ "سبسکرائب” کا بٹن دبائیے۔ بذریعہ ای میل آپ کو ہمارے نئے بلاگز کی اطلاع مل جائے گی۔