fbpx

کائنات کی آفرنیش کے وقت خدا نے دس مرد تخلیق کیے۔ لیکن وہ بہت جلد جنت سے اکتا گئے۔ خدا نے انہیں گوندھی ہوئی مٹی دی اور کہا کہ جیسی تمہیں عورت پسند ہے اس مٹی سے بنا لو۔ اور اس میں سامنے رکھے شکر کے ٹکڑوں میں سے ایک ٹکڑا ملانا مت بھولنا تاکہ تمہاری ازدواجی زندگی شیریں رہے۔ میں تمہاری بنائی عورتوں میں جان ڈال دوں گا۔ سب مردوں نے اپنی پسند کی عورت بنا لی۔ جب خدا نے ان کی بنائی عورتوں کو دیکھا تو کہا۔ "یہاں شکر کے گیارہ ٹکڑے تھے۔ تم میں سے کسی نے غلطی سے دو ٹکڑے ڈال دیے۔ ایک اضافی ٹکڑا کس نے شامل کیا ہے؟"

سب مرد خاموش رہے۔ خدا نے ان مجسموں میں جان ڈالی اور جس مرد نے جو عورت بنائی تھی اسے وہ دینے کی بجائے جس کے حصے میں جو عورت آئی، وہ دے دی۔ تب سے اب تک نو آدمی دوسری عورتوں میں یہ سوچ کر دلچسپی لیتے ہیں کہ شیرینی کے دو حصے اسی میں ہوں گے۔ صرف دسواں مرد یہ جانتا ہے کہ ساری عورتیں ایک سی ہیں۔ کیونکہ شکر کا گیارہواں ٹکڑا اس نے خود کھا لیا تھا۔

روسی ادب سے منتخب کئے گئےاس اقتباس کو دیکھا جائے تومعلوم پڑتا ہے کہ سالوں گزرنے کے باوجود بھی انسان اسی دوڑ اور غلط فہمی کا شکار ہے۔ جس عورت سے اس کی شادی ہوتی ہے اسے سکون اور خوشی دینے کی بجائے دوسری خواتین سے ان کا موازنہ کر کے اپنی بیوی کو احساس کمتری کا شکار بنا دیتا ہے۔ شوہر اور بیوی کے باہمی تعلقات اور ازدواجی زندگی کے متعلق ہمیں نہایت صریح اور منصفانہ ہدایات دی گئی ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر ایک جوڑا خوشگوار اور پرسکون زندگی گزار سکتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ بیوی کی نسبت شوہر ازدواجی راحت وسکون کا زیادہ حریص اور خواہشمند ہوتا ہے کیونکہ اسے بیرونی دنیا کے مصائب، پریشانیوں اور تکالیف کا زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ عورت اپنا زیادہ تر وقت گھر میں گزارتی ہے۔ شوہر کو گھر واپس آنے پر ایک پر سکون ماحول اور محبت کرنے والے جیون ساتھی کی تلاش ہوتی ہے لیکن بیوی کی ذرا سی لاپرواہی یا اپنے غلط طرز عمل کی بنا پروہ اپنا سکون واطمینان اپنے ہاتھوں چھین لیتے ہیں۔ جس سے نہ صرف وہ خود بلکہ سارا گھرانہ پریشانیوں کا شکار ہوجاتا ہے۔ رشتوں میں سرد مہری کی کئی نفسیاتی، جسمانی اور بیرونی عوامل یا وجوہات ہو سکتی ہیں۔

ہمارا معاشرہ اتنی ترقی کر چکا ہے لیکن اس کے باوجود اکثر گھرانوں میں لڑکی اور لڑکے کی شادی اس کا مزاج، معاشی صورتحال، معیار زندگی اور تعلیم کے فرق کو نظر انداز کرتے ہوئے کر دی جاتی ہے۔ جو سراسر ظلم اور ایک غیر شرعی عمل ہے۔ ایسے میں وہ ایک دوسرے کے ساتھ جذباتی اور دلی تعلق قائم نہیں کر پاتے۔ اس لئے رشتہ سرد مہری کا شکار ہو جاتا ہے۔ عورت یوں بھی فطرتا زیادہ حساس ہوتی ہے۔ وہ اپنی جذباتی وابستگی کسی کے ساتھ منسلک کئے بغیر نہیں رہ سکتی۔ اس جذباتی وابستگی میں خلا یا مسائل آنے کی وجہ سے وہ تناؤ کی کیفیت محسوس کرنے لگتی ہے۔ عدم تحفظ اور بے یقینی جیسی کیفیات کا شکار ہو جاتی ہے۔ مردوں کو دیکھا جائے تو وہ معاشی پریشانیوں، دفتری مسائل، مالی بوجھ اور بعض اوقات خاندانی تفکرات کے باعث سرد مہر رویہ کا اظہار کرتے ہیں۔  جس کا نتیجہ شوہر اور بیوی کے درمیان فاصلے کی صورت نکلتا ہے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ ہارمونز میں بھی فرق آجاتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہوتا ہے کہ وٹامن کی کمی یا ہارمونز کی خرابی یا تبدیلی کی وجہ سے شوہر یا بیوی میں نفسیاتی یا جسمانی مسئلہ پیدا ہو جائے۔ جس کی بناء پر ان کا رویہ تبدیل ہو جاتا ہے۔

بعض اوقات شادی کے ابتدائی ایام میں کیے جانے والے عہد و پیماں کو لے کر بھی میاں بیوی میں اختلافات پیدا ہو جاتے ہیں اور محبت میں دراڑ پڑجاتی ہے۔ ایک دوسرے سے بہت سی توقعات وابستہ کر لینے اور ان کے پورا نہ ہونے پر بھی اکثر اوقات مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ دراصل انسان کا مزاج اور طبیعت ہی اسے کسی دوسرے انسان کو قریب لانے یا دور لے جانے کا باعث بنتا ہے۔ رشتوں میں فوقیت اور عہدے کی برتری کا تصور پیدا کرلینے سے ایسی صورتحال پیدا ہونا لازم ہے۔

اکژر اوقات سسرال والوں کا رویہ لڑکی کے ساتھ اچھا نہیں ہعتا۔ شوہر سے شکایت کرنے پر وہ انصاف قائم کرنے کی بجائے اگر اپنے گھر والوں کا ساتھ دے تب بھی دونوں کے رویے میں تبدیلی آنا فطری عمل ہے۔

اگر کبھی ایسی کیفیات یا صورتحال کا سامنا ہو کہ شوہراور بیوی آپس میں ایک دوسرے سے جذباتی یا جسمانی دوری محسوس کرنے لگیں تو اسے انا کا مسئلہ بنا لینے کی بجائے دونوں میں سے کسی ایک کو پہل کرکے اس کیفیت کو ختم کر لینا چاہیے، اپنی جذباتی وابستگی کو بحال کرنا چاہیے۔ شوہر اور بیوی دونوں کے لئے لازم ہے کہ ایک دوسرےسے بے جا توقعات یا خواہشات نہ رکھیں۔ محبت خود سپردگی کا نام ہے۔ شوہر اور بیوی کو تو یوں بھی ایک دوسرے کا لباس کہا گیا ہے۔ شادی کے اوائل دنوں سے ہی انہیں ایک دوسرے کا مزاج، مصروفیات اور ذمہ داریاں سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئیے۔ جتنی جلدی وہ ایک دوسرے کی مصروفیات اور ذمہ داریوں سےآگاہ ہوں گے ان کے مابین ذہنی ہم آہنگی اتنی جلدی قائم ہو گی اور سردمہری کی شکایت کبھی پیدا نہیں ہو گی۔ زندگی نہ صرف پرلطف ہوجائے گی بلکہ ہر گزرتا لمحہ خوشیوں سے بھرپور اور پرسکون ہو جائے گا۔

والدین کو بھی چاہئیے کہ رشتہ قائم کرتے وقت بچوں کی پسند نا پسند اور دیگراہم امور کا خاص خیال رکھیں۔ اگر بچے کسی کو پسند کرتے ہیں تو اسے ضد یا انا کا مسئلہ بنا کر انکار نہ کریں۔ نوجوانوں کے لئے بھی اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ محبت کی شادی کرنا غلط عمل نہ سہی لیکن اس کی وجہ سے اپنے والدین کو دکھی کرنا بھی درست بات نہیں۔ پسند کی شادی میں وقتی جذبات محرک بنتے ہیں، جن میں وقت کے ساتھ کمی آنے لگتی ہے، نتیجتاً اکثر شادیاں ناکام ہوجاتی ہیں، طلاق یا علیحدگی کی نوبت آجاتی ہے۔ اسی لئے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ والدین اور خاندان کے بزرگوں کے قائم کئے ہوئے رشتے پائیدار ثابت ہوتے ہیں۔ ٹیکنالوجی کی ترقی نے اس کا بہترین حل رشتہ ویب سائٹس کی صورت میں نکالا ہے۔ جہاں بیک وقت بچوں اور والدین کی مرضی کے مطابق رشتہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ سمپل رشتہ پاکستان کی ایک ابھرتی ہوئی رشتہ ویب سائٹ ہے جس کے ڈیٹا بیس میں پاکستان اور بیرون ملک کے بہت سے امیدوار رجسٹر ہیں۔ آن لائن رشتہ ویب سائٹ ہمارے معاشرے کے لئے ایک نئی چیز ہو سکتی ہے لیکن بیرون ممالک جیسا کہ برطانیہ، امریکہ، آسٹریلیا یہاں تک کہ بھارت میں بھی رشتہ ویب سائٹ عام ہیں ۔ امیدوار خود یا والدین اپنے بچوں کی معلومات ان ویب سائٹس پر اپلوڈ کر کے اپنی پسند کا رشتہ بغیر کسی دقت، گھر بیٹھے تلاش کر لیتے ہیں۔ پاکستان میں بھی رشتہ ویب سائٹس مقبول ہو رہی ہیں اور وہ وقت دور نہیں جب یہ رشتہ کی تلاش کے روایتی طریقوں کو بالکل ختم کر دیں گی۔