دنیا جس تیزی سے ترقی کر رہی ہے آج سے چند دہائیاں پہلے اس کا تصور تک نہیں تھا۔ نت نئی ایجادات اور تصورات انسان کو انگشت بدنداں پر مجبور کر رہی ہیں۔ آج کا انسان بالخصوص نوجوان نسل اپنے ارد گرد اور دنیا میں ہونے والی تبدیلیوں اور ترقی سے ہر لمحہ با خبر رہنا چاہتی ہے۔ اور اس میں سوشل میڈیا اپنا بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔ ہم آج کے بلاگ میں "رشتوں کی تلاش میں سوشل میڈیا کا کردار” پر بات چیت کریں گے۔

رشتوں کی تلاش:

رشتوں کی تلاش کا طریقہ کار بھی ہر زمانے کے ساتھ بدلتا گیا۔ انٹرنیٹ کی آمد سے پہلے اور بعد بہت سی تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں۔

چند دہائیاں پہلے عزیز و اقارب جو دوردراز علاقوں میں مقیم ہوتے تھے ان کے ساتھ رابطہ کا واحد ذریعہ خط و کتابت ہوتی تھی۔ رشتوں کی تلاش بھی دور دراز کے علاقوں میں ممکن نہ تھی۔ خاندان کے بزرگوں کی رسائی جہاں تک ہوتی۔ وہیں رشتے دیکھے اور طے کر لئے جاتے تھے۔

پھر ذرا ترقی ہوئی اور ٹیلیفون ایجاد ہوا تو رابطے میں کچھ آسانی ہوئی۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے انٹرنیٹ اور موبائل فون کی ایجاد نے زندگیوں میں بہت آسانی کر دی۔ دنیا کے ایک کونے سے دوسرے تک رابطہ منٹوں میں ہونے لگا۔

سوشل میڈیا نت نئی سہولیات دیتا رہا اور لوگ اس رنگا رنگی میں مشغول ہوتے چلے گئے۔ آج پوری دنیا میں سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ اور اس کے ذریعے رشتے کی تلاش کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ واٹس ایپ اور فیس بک گروپس کے علاوہ اب بہت سی ویب سائٹس بھی رشتے کی سہولت فراہم کر رہی ہیں۔ پاکستان میں اگرچہ لوگ ابھی ان کے استعمال اور اہمیت سے ناواقف ہیں لیکن وہ وقت دور نہین جب یہ طریقہ تمام روایتی طریقوں کو پیچھے چھوڑ دے گا۔ 

 سوشل میڈیا کے اثرات: 

آج سوشل میڈیا نے ہماری زندگیوں اور وقت کو پورے طور اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ اس کے جہاں بہت سے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں وہیں اس کی بدولت لوگ بہت سے مثبت پہلووں سے بھی روشناس ہوئے ہیں۔ 

۱- سوشل میڈیا کی بدولت ہماری نوجوان نسل مغربی تہذیب اور قدروں کو قبول کر رہی ہے۔

۲- رشتوں کی تلاش تو رہی ایک طرف لیکن شادی سے پہلے تعلقات، ایک ساتھ رہنا اورلڑکے اور لڑکیوں کی دوستی کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

۳- مغربی ممالک میں شادی سے پہلے ایک ساتھ رہنا قانوناً ممنوع نہیں ہے۔ لیکن انٹرنیٹ کی ترقی اور سوشل میڈیا کی بدولت اس کے اثرات مشرقی اور مسلم ممالک تک بھی پہنچ رہے ہیں۔

۴- ہم جنس شادیوں کو فروغ مل رہا ہے۔ ایسے منفی رجحانات مسلمان نوجوانوں پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔

اس کا بہترین حل یہی ہے کہ والدین رشتوں کی تلاش میں زیادہ دیر نہ کریں۔ بروقت نکاح کو فروغ دیں۔ اور بچوں کی شادی میں غیر ضروری تاخیر نہ کریں۔

ایک سروے کے مطابق پاکستان میں ایک عام شہری زندگی بھر کی کمائی کا ایک تہائی حصہ شادیوں پر خرچ کرتا ہے۔ نت نئی رسومات کو بڑھاوا بھی سوشل میڈیا کی وجہ سے ہی مل رہا ہے۔ لوگ ایک دوسرے کی تقلید اور خاندان میں اپنی ناک اونچی رکھنے کے لئے ان رسومات پر بے جا پیسہ خرچ کرتے ہیں۔ رشتوں کی تلاش اور شادی والدین کے لئے ایک چیلنج اور بڑا مالیاتی بوجھ بن چکی ہے۔ 

شادی کی انڈسٹری کو سوشل میڈیا کی نسبت بہت فروغ ملا ہے۔ اور تیس فیصد سالانہ کی شرح سے اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جو ایک طرف تو فائدہ مند ہے۔ کہ اس انڈسٹری کی بڑھوتری سے لوگوں کو روزگار میسر آ رہا ہے۔ ملک کی ترقی میں بھی ان کا حصہ ہے۔ لیکن دوسری طرف یہ انڈسٹری بہت سی غیر ضروری رسومات پر بے جا پیسہ خرچ کرنے کو فروغ دے رہی ہے۔ 

رشتوں کی تلاش اور سوشل میڈیا: 

سوشل میڈیا جدید دور کی سب سے با اثرتکنیکی اختراعات میں سے ایک ہے۔ جس نے مواصلات سے لے کر اشتہارات تک ہر چیز کو یکسرتبدیل کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا ہماری روزمرہ کی زندگی میں بغیر کسی رکاوٹ کے ضم ہو گیا ہے۔ یہاں تک کہ کچھ کالج اور یونیورسٹیوں نے باقاعدہ سوشل میڈیا مارکیٹنگ کی ڈگریاں بھی متعارف کروا دی ہیں۔ کیوں کہ جدید دور کی ثقافت میں سوشل میڈیا ایک زبردست قوت بن کر ابھرا ہے۔

سوشل میڈیا کے اثر و رسوخ کو دیکھیں تو یہ بات بالکل حیران کن نہیں ہے کہ اس کے اثرات میچ میکنگ یا رشتوں کی تلاش میں بھی بڑھ چکے ہیں۔ درحقیقت، سوشل میڈیا کے ظہور نے میچ میکنگ کا طریقہ کار کافی حد تک تبدیل کر دیا ہے اور اسے ڈیجیٹل دور میں داخل کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا نے ذاتی تعاملات اور لین دین کو ایک نیا رخ دے دیا ہے۔ سوشل میڈیا یا دیگر ایپس کے ذریعے انٹرنیٹ پر ہونے والے تعاملات، آمنے سامنے بات چیت کے لیے، خواہ آپ دنیا کے کسی کونے میں موجود ہوں، ایک اچھا ذریعہ فراہم کرتے ہیں۔

رشتوں کی بات ہو تو آپ گھر بیٹھے کسی بھی رشتہ ویب سائٹ پر ہزاروں رشتے دیکھ سکتے ہیں۔ یہ ناقابل یقین حد تک ایک مفید طریقہ اور ذریعہ بن چکا ہے جسے استعمال کیا جانا چاہیے۔

جب شادی یا رشتہ کی تلاش کی بات آتی ہے تو سوشل میڈیا نہ صرف میچ میکرز کو اپنے صارفین کے لئے بلکہ شادی کے امیدواروں کو پہلے سے کہیں زیادہ مؤثر طریقے سے شریک حیات کی تلاش میں مدد دیتا ہے۔ فیس بک اور واٹس ایپ پر بے شمار گروپس اس مقصد کے لئے بنے ہوئے ہیں۔ جہاں امیدواروں کی معلومات باقاعدگی سے شیئر کی جاتی ہیں۔ 

رشتہ ویب سائٹس اور سوشل میڈیا کا ربط: 

سوشل میڈیا جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ مل کر رشتوں کی تلاش کے عمل کو ہموار کرتا ہے۔ رشتہ ویب سائٹس پر الگورتھم کے ذریعے امیدوار کی معلومات اور ترجیحات  کے درمیان ربط بنتا ہے اور انہیں مطلوبہ نتائج حاصل ہوتے ہیں۔ یہ ویب سائٹس زیادہ تر ڈیٹا سوشل میڈیا ایپس پر مارکیٹنگ کے ذریعے حاصل کرتی ہیں۔ لوگ سوشل میڈیا ایپس پر چلنے والے اشتہارات کو دیکھ کر ویب سائٹس پر رابطہ کرتے ہیں۔

جیسے چند دہائیوں پہلے اخبارات میں شادی کے اشتہار چھپتے تھے، اب یہ کام سوشل میڈیا پر ہوتا ہے۔ اخبارات میں چھپنے والے اشتہارات کی نسبت سوشل میڈیا پر دئیے گئے اشتہارات کا ردعمل فوری مل جاتا ہے۔ جیسے سوشل میڈیا پیج یا گروپ میں کسی امیدوار کا رشتہ لگایا جائے تو وہ بذات خود اور اس کی فیملی وہاں موجود ہوتی ہے اور دلچسپی کا اظہار کرنے والوں  سے براہ راست رابطہ کر لیا جاتا ہے۔ دوسرا یہ کہ یہ اشتہارات زیادہ تر مفت لگائے جاتے ہیں، امیدوار کو کوئی ادائیگی نہیں کرنی ہوتی۔

 امیدوار اپنی سوشل میڈیا پروفائل کا سہارا لے کر خود بھی رشتہ تلاش کر سکتا ہے۔ اس مقصد کے لئے وہ اپنی مکمل معلومات اور تصویر اپنے سوشل میڈیا پر شیئر کر سکتا ہے۔ اس کے سرکل میں موجود لوگ اس سلسلے میں اس سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

 سوشل میڈیا ایپس امیدواروں کی معلومات کی تصدیق اور رابطے کا ذریعہ بھی بنتی ہیں۔ کسی امیدوار کی سوشل میڈیا پر کیسے لوگوں کے ساتھ دوستی ہے۔ کن شخصیات کو وہ فالو کرتا ہے۔ کس قسم کا مواد شیئر کرتا ہے۔ اس کی بات چیت کس قسم کے لوگوں کے ساتھ ہے۔ اس کا عمومی رویہ کیسا ہے۔ ان سب باتوں کا سوشل میڈیا کے ذریعے پتا چل سکتا ہے۔ بلکہ ایک ماہر کا تو یہ کہنا ہے کہ

"سچ اور جھوٹ کو ماپنے کے لئے سب سے بڑا سہارا برقی اور سوشل میڈیا ہی ہے" 

سوشل میڈیا پر رشتہ تلاش کرنا ہو تو سمپل رشتہ ایک ابھرتی ہوئی ویب سائٹ ہے۔ جس نے قلیل عرصے میں اپنی ایک مثبت ساکھ بنا لی ہے۔ سمپل رشتہ نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو بھی رشتوں کی تلاش میں مدد فراہم کر رہا ہے۔ جن میں امریکہ، برطانیہ، اور خلیجی ممالک شامل ہیں۔

سمپل رشتہ پر رشتہ کی تلاش نہایت آسان ہے۔ امیدوار یا اس کی فیملی کو ویب سائٹ پر رجسٹر کرنے کے بعد پروفائل بنانی ہے۔ پروفائل میں درج کی گئی ترجیحات کی بنیاد پر آپ کو رشتے نظر آئیں گے۔ جن سے آپ فوری رابطہ کر سکتے ہیں  اور یوں گھر بیٹھے رشتے کی تلاش کامیابی سے مکمل ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد اگلا مرحلہ امیدوار کی فیملی سے ملاقات کا ہے۔ جو دونوں امیدوار یا انکی فیملی باہمی رابطے کے ذریعے حل کر لیتی ہے۔ یوں شادی کی راہ ہموار ہو جاتی ہے۔

رشتوں کی تلاش سوشل میڈیا کے ذریعے کیسے کی جا سکتی ہے اس کا طریقہ کار تو ہم نے واضح کر دیا۔ لیکن ہم یہ ضرور جاننا چاہیں گے کہ آپ اس کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔

کیا سوشل میڈیا پلیٹ فارمز رشتوں کی تلاش میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں؟

کیا آپ نے ابھی تک رشتے کی تلاش کے لئے کسی سوشل میڈیا پلی فارم یا ویب سائٹ کا سہارا لیا؟

ہمیں آپ کے جواب کا انتظار رہے گا۔

اگر آپ ایک اچھے رشتے کی تلاش میں ہیں تو سمپل رشتہ کو ایک موقع ضرور دیجئے۔