fbpx

یونانی داستانوں کے مطابق، ابتدا میں انسان ایسا نہیں تھا جیسا اب دکھائی دیتا ہے۔

بلکہ اسے چار بازوؤں ، چار پیروں، ایک سر اور دو چہروں کے ساتھ پیدا کیا گیا تھا۔ لیکن پھر ان کی طاقت سے خوف کھاتے ہوئے،

زیوس آسمانی دیوتا نے انہیں دو الگ الگ حصوں میں بانٹ دیا ۔۔

اور تب سے انسان اپنے دوسرے حصے کی تلاش میں مارا مارا پھرتا ہے۔

یہ تو یونانی فلسفہ ہے، ہمارا اس پر اعتقاد نہیں لیکن دیکھا جائے تو آج بھی انسان سول میٹ یا آئیڈیل کے نام پر اپنے جیون ساتھی کی تلاش میں در بدر پھرتا ہے۔

اور یہ تلاش صرف متعلقہ مرد یا عورت تک ہی محدود نہیں بلکہ اس کا سارا خاندان اس تلاش میں شامل ہوتا ہے۔ ماں کو اپنی پسند کی بہو لانی ہے تو بہنوں کو اپنے میعار پر اترتی ہوئی بھابی۔

لڑکے کو ایسی شریک حیات کی تلاش ہے جو زندگی کے راستے پر اس کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلے تو لڑکے کی ماں کو ایسی لڑکی کی تلاش ہے جو گول روٹی بنا سکے ،

کسی سپر مین کی طرح تنہا سارے گھر کی ذمہ داریاں اٹھا سکے۔ وہ گھر جو پہلے لڑکے کی ماں اور بہنوں نے مل کر سنبھالا ہوتا ہے جس میں بقدر ضرورت گھر کے مرد بھی حصہ ڈالتے ہیں،
بہو کے آنے کے بعد ان سب ذمہ داریوں کا بوجھ ایک اکیلی لڑکی پر ڈال دیا جاتا ہے،
یہ جانے اور سمجھے بغیر کہ اسے نئے ماحول میں ڈھلنے یا ذمہ داریوں کو سمجھنے کے لئے کچھ وقت چاہئیے۔
وقت کی رفتار کا ساتھ دیتے ہوئے اور ایک پر تعیش زندگی گزارنے کی خواہش میں لڑکیوں نے بھی لڑکوں کے شانہ بشانہ کام کرنا شروع کر دیا ہے۔

وہ گھرانے جو پہلے ایک مرد کی کفالت میں بھی چین کی بانسری بجاتے تھے، آج سب گھر والوں کے کمانے کے باوجود پر سکون نہیں ۔

وجہ یہی ہے کہ جیسے جیسے آمدنیاں بڑھ رہی ہیں خواہشات کا دائرہ بھی وسیع ہو رہا ہے۔ اور اس کا اثر رشتوں کی تلاش پر بھی پڑا ہے۔ آج کل ایسے رشتے کے لئے ایسے گھرانوں کو ترجیح دی جاتی ہے جو معاشی طور پر خوشحال ہوں۔

لڑکی کے والدین کو اگر پڑھا لکھا اور امیر لڑکا داماد چاہئیے تو دوسری طرف لڑکے والوں کوبھی کسی خوشحال خاندان کی لڑکی کی تلاش ہے۔ ضرورت رشتہ فراہم کرنے والی ویب سائیٹ کے اعداد و شمار بھی یہی بتاتے ہیں کہ دوسری بہت سی خوبیوں کے ساتھ ساتھ لڑکے اور لڑکی کے خاندانوں کی ایک شرط معاشی خوشحالی بھی ہوتی ہے۔

حالانکہ کہتے ہیں کہ رزق عورت کی قسمت سے مشروط ہے اور اولاد مرد کی۔ لیکن یہ معاشرہ رزق مرد میں تلاش کرتا ہے اور اولاد عورت میں۔

ایک سروے کے مطابق پاکستان میں ڈیڑھ کروڑ ایسی لڑکیاں موجود ہیں جن کے والدین اچھے اور مناسب رشتوں کی راہ تک رہے ہیں۔ اس کی ایک وجہ ہمارا دوہرا میعار بھی ہے۔

بیٹوں کے لئے رشتہ کی تلاش کرتے وقت ہم جو میعار ذہن میں قائم کر لیتے ہیں وہ بیٹی کے لئے آنے والے رشتے کے وقت بالکل بدل جاتا ہے۔

ہماری خواہش ہوتی ہے کہ لڑکے والے مرتبے میں ہم سے کتنے ہی بلند کیوں نہ ہوں لیکن ہماری بیٹی کا رشتہ اس کی سیرت اور سگھڑاپے کو دیکھ کر طے کیا جائے۔ لیکن خود کسی کی بیٹی کو دیکھتے وقت ہمارا معیار تبدیل ہو جاتا ہے۔

سیرت اور سگھڑاپا ثانوی حیثیت اختیار کر لیتا ہے اور ہماری پہلی ترجیح خوبصورتی اور دولت بن جاتی ہے۔

یہ درست ہے کہ انسان کو حالات کے ساتھ چلنا چاہئے اور معاشرے میں ہونے والی تبدیلیوں کو قبول کرنا چاہئیے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنی تہذیب، روایات اور تعلیمات کو فراموش نہیں کرنا چاہئیے۔ خوب سے خوب تر کی تلاش والدین یا لڑکے اور لڑکی کو اس مقام پر پہنچا دیتی ہے کہ وہ یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ جو ہے جیسا ہے، قبول ہے۔

سپمل رشتہ صرف آن لائن رشتوں کا ایک ادارہ نہیں ہے بلکہ اس حوالے سے معاشرے کی سوچ کو تبدیل کرنے کا عزم بھی لئے ہوئے ہے۔ کسی بھی امیدوار یا والدین کی ملاقات اور رشتہ کی بات کو آگے بڑھانے سے پہلے ادارہ اپنی ذمہ داری پر تمام ضروری باتوں کی تصدیق کرتا ہے ۔

 

امیدوار سے تمام ضروری سوالات کرنے، انکے رجحانات اور میلان طبع کو جانچنے کے بعد ہی قدم آگے بڑھایا جاتا ہے۔ اور یہ خدمت اس دور میں بہت کم ادارے سر انجام دے رہے ہیں۔