fbpx

میری آنکھوں میں کوئی چہرہ چراغ آرزو

وہ میرا آئینہ جس سے خود جھلک جاؤں کبھی

ایسا موسم جیسے مے پی کر چھلک جاؤں کبھی

یا کوئی ہے خواب

جو دیکھا تھا لیکن پھر مجھے

یاد کرنے پر بھی یاد آیا نہ تھا

دل یہ کہتا ہے وہی ہے ہو بہو

جس کو دیکھا تھا کبھی اور سامنے پایا نہ تھا

گفتگو اس سے ہے اور ہے روبرو

خواب ہو جائے نہ لیکن گفتگو

میری آنکھوں میں کوئی چہرہ چراغ آرزو!!

عبید اللہ علیم کی یہ خوبصورت نظم پڑھتے ہی ذہن میں خیال آتا ہے کہ آئیڈیل کیا ہے؟؟ کمال ، خوبصورتی  یا فضلیت کا وہ معیارجو ایک شخص اپنے ذہن میں قائم کر لیتا ہے۔  یا کسی خاص مقصد کے لئے ایک شخص یا رویے کے لئے پسندیدگی قائم کر لینا ۔ یا کسی کی خوبیوں کا اس حد تک اثر قبول کر لینا کہ خود ویسا بننے یا متعلقہ لوگوں کو ویسا دیکھنے کی خواہش کرنے لگ جانا۔  یا پھر کسی کے طرز زندگی، تعلیم یا مقام سے متاثر ہو کراپنے لئے بھی وہی تمنا رکھنا ۔۔ سوال یہ ہے کہ آئیدیل محض ہمارے ذہن کی اختراع ہے یا اس کا کوئی وجود بھی ہے؟ اگر تو بات کسی کے علم، پیشہ یا طرز زندگی سے متاثر ہونے کی ہے تو اس میں کوئی برائی نہیں ۔۔ اگر آپ کسی کو اپنا آئیڈیل بنا لیتے ہیں، محنت اور ایمانداری سے وہ مقام حاصل کرنے کی سر توڑ کوشش کرتے ہیں تو پھر آئیڈیل بنانا ٹھیک ہے ۔۔ کیونکہ یہ ایک مثبت رویہ ہے۔ بعض اوقات لوگ کسی کی وضع قطع سے متاثر ہو کر اسے اپنا لیتے ہیں۔ اس میں بھی کوئی ہرج نہیں ۔۔ لیکن جہاں تک شادی بیاہ کا معاملہ ہے وہاں آئیڈیل بنانے سے گریز ہی کرنا چاہئیے ۔۔

کیونکہ کوئی بھی انسان سو فیصد آپ کے تخیلاتی کردار جیسا نہیں ہو سکتا ۔۔ اگرچہ میرج بیورو ویب سائٹ ویب سائٹ اس حوالے سے فائدہ مند ثابت ہو رہی ہیں اور سو فیصد نہ سہی لیکن کسی حد تک شادی کے امیدواروں کو ان کے آئیڈیل سے ملا رہی ہیں۔  انسان جب بچپن کی دہلیز پار کر کے جوانی میں قدم رکھتا ہے تو اس کا واسطہ بہت سے لوگوں سے پڑتا ہے اور ان کی کسی نہ کسی خوبی سے وہ متاثر ہوتا ہے ۔۔ یہ خوبیاں یکجا ہو کر یا انفرادی طور پر اس کے دماغ میں ایک خاکہ بنا لیتی ہیں۔ جسے وہ آئیڈیل کا نام دے دیتا ہے۔۔ ڈائجسٹ یا رسالے پڑھنے والی نوجوان لڑکیاں، افسانوں یا ناولوں کے ہیروسے متاثر ہو جاتی ہیں ۔۔ ٹی وی یا فلم دیکھنے والی لڑکیاں ان میں کام کرنے والے لوگوں کو اپنا آئیڈیل بنا لیتی ہیں۔ اور اپنی خیالی دنیا میں ان کے ساتھ خوش و خرم زندگی گزارنے کے خواب دیکھنے لگتی ہیں۔ کم عمراور نا پختہ ذہن کی لڑکیوں کا آئیڈیل خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ بہت دولت مند، بہادر، درد مند دل اور بے حد خیال رکھنے والا بھی ہوتا ہے ۔۔ یہ سب خوبیاں کسی ایک شخص میں یکجا ہونا بہت مشکل ہے۔ ایسے لڑکے کی تلاش میں لڑکیاں آنے والے مناسب رشتوں سے بھی انکار کر دیتی ہیں۔ اور ان رشتوں کا اپنے آئیڈیل سے موازنہ کرتے کرتے عمر کی اس دہلیز پر پہنچ جاتی ہیں جہاں ان کے بالوں میں چاندی چمکنے لگتی ہے ۔۔ اورپھر عمر کے اس حصے تک پہنچ جاتی ہیں جہاں آنے والے کسی بھی رشتے کو ” جو ہے جیسا ہے” کی بنیاد پر قبول کرنا پڑتا ہے۔

لیکن اگر کسی لڑکی پر دباو ڈال کر اس کی شادی کر دی جائے تو باقی کی ساری عمروہ اپنے شوہر کا اپنے آئیڈیل سے موازنہ کرتے اور اس میں خامیاں تلاش کرتے گزار دیتی ہے۔ جو لڑکی حالات سے سمجھوتا کر لے اورآئیڈیل کا خیال دل سے نکال کر شوہر کو قبول کر لے اس کی زندگی اچھی گزر جاتی ہے۔  ہماری نوجوان نسلیہ نہیں سوچتی کہ آئیڈیل محض ایک خیالی کردار ہے جسے انہوں نے خود تراشا ہے۔ اور وہ ایک خیالی کردار کو حقیقت کے روپ میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس تصوراتی کردار سے ہٹ کر کسی اور کی طرف دیکھنا یا قبول کرنے کا خیال ہی ان کے لیے سوہان روح ہوتا ہے۔ لیکن شادی کے بعد جب ان کا حقیقت سے سامنا ہوتا ہے تو ان کے خواب چکنا چور ہوتے ہیں ۔۔

جس کا نتیجہ شکایتوں اور لڑائی جھگڑوں کی صورت میں نکلتا ہے۔ اور اس آئیڈلزم کا شکار ہو کر بہت سی لڑکیاں اور لڑکے اپنا گھر خراب کر لیتے ہیں۔  کیونکہ آئیڈیل کا شکار صرف لڑکیاں ہی نہیں بلکہ لڑکے بھی ہوتے ہیں۔ جنہیں اپنی بیوی کسی ہیروئن سے کم نہیں چاہیے ہوتی ۔۔  کسی کی خوبیوں کا معترف ہونا اور کسی کے لئے پسندیدگی رکھنا غلط نہیں۔ لیکن اس تخیلاتی کردار کے لیے اپنی زندگی میں موجود حقیقی رشتوں کی دل آزاری کرنا بالکل درست عمل نہیں۔ اور آئیڈیل کے انتظار میں آنے والے رشتوں سے انکار بھی کفران نعمت ہے۔ شہرت کی بلندی کو چھونے والے تمام افراد جنہیں آج کی نسل اپنا آئیڈیل مانتی ہے وہ بہت سی قربانیوں اور محنت کے بعد اس مقام تک پہنچے ہوتے ہیں۔ ایک عام انسان کو ان کے مقام تک پہنچنے کے لئے وقت اور مناسب حالات درکار ہوتے ہیں۔

بہتر ہو گا اگر آئیڈیل کی تلاش میں عمر گنوانے کی بجائے جس شخص کا ساتھ ملے اسے ہی آئیڈیل بنا لیا جائے۔ خوابوں میں گم رہنے کی بجائے، جس مقام پر آپ کا آئیڈیل موجود ہے، وہاں تک پہنچنے میں اپنے شریک حیات کی مدد کریں، اس کی حوصلہ افزائی کریں،  آگے بڑھنے کا راستہ دکھائیں۔ بقول عبید اللہ علیم ۔۔ بڑی آرزو تھی ہم کو نئے خواب دیکھنے کی

سو اب اپنی زندگی میں نئے خواب بھر رہے ہیں اگر آپ اپنی زندگی میں موجود حقیقی رشتوں اور کرداروں سے محبت کریں گے اور ان کی قدر کریں گے تو آپ کی زندگی ایک آئیڈیل زندگی ہو گی۔