fbpx

بیاہ، تقریب عقد نکاح، محفل عروسی  یہ سب نام شادی اور اس کی تقریب کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ شادی فارسی زبان کا لفظ ہے۔ جس کے لفظی معنی خوشی، مسرت اور انبساط کے ہیں۔ سنسکرت میں اس کے لئے بیاہ کا لفظ رائج تھا، عروس عربی میں مستعمل تھا۔ اردو زبان نے ان سب الفاظ کو اپنے دامن میں نہایت فراخ دلی سے سمیٹ لیا۔ اصطلاح میں شادی کا مفہوم مختلف ثقافتوں میں مختلف ہے، البتہ بنیادی طور پر شادی کی تعریف یوں کی جاسکتی ہے کہ کسی بھی ملک، ثقافت یا مذہب میں رائج وہ رسم اور قانونی معاہدہ جس کے ذریعے ایک مرد اورعورت کے مابین قانونی اور شرعی تعلق قائم کیا جاتا ہے۔ رشتہ خواہ والدین تلاش کریں، امیدوار خود اپنی پسند سے کرنا چاہے یا آن لائن رشتہ ویب سائٹس کے ذریعے ہو، شادی کا بنیادی مقصد انسان کے اخلاق کی حفاظت اور معاشرے کو بگاڑ و فساد سے بچانا ہے۔ اوردوسرا مقصد انسان کی زندگی میں کسی دوسرے کی شرکت اور مدد ہے۔ اس کے علاوہ شادی آرام و سکون کے حصول اور نسل انسانی کے تسلسل کو جاری رکھنے کا ذریعہ بھی ہے۔ معاشرہ کوئی بھی ہو وہاں شادی اور رشتے کی تلاش کا طریقہ مشترک ہی ہے۔ آپ کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتے ہوں یا تو آپ کی گھر والے آپ کے لئے رشتے کی تلاش کرتے ہیں، یا اگر لڑکا یا لڑکی خود کسی کو پسند کرتے ہوں تو اس سلسلے کو گھر والے آگے بڑھاتے ہیں، تیسرا طریقہ جو مغرب میں تو کافی عرصے سے مقبول ہے لیکن مشرقی ممالک میں کافی دیر بعد اسے پذیرائی ملی، وہ ہے آن لائن رشتہ، یا رشتہ ویب سائٹس۔ جہاں والدین یا شادی کا امیدوار خود اپنی معلومات درج کرتا ہے اور رشتے کی تلاش کرتا ہے۔ سمپل رشتہ بھی ایسی ہی ایک ویب سائٹ ہے جو پاکستان اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو رشتہ کی آن لائن سروس فراہم کر رہی ہے۔ مختلف ثقافتوں میں  شادی کی بے شمار رسمیں ہیں جو سالہا سال سے چلی آرہی ہیں۔ اور شادی کی تیاری تو یوں بھی ہر ایک کی دلچسپی کا محور ہے۔ خواہ لڑکی ہو یا لڑکا۔ لڑکیوں کےلئے خاص کر ایسی تقریبات زیادہ دلچسپی کا باٰعث ہیں۔ رنگ برنگ پیرہن، زیورات، سجنا سنورنا کسے پسند نہیں۔ ذیل میں شادی کی لغت اور اصطلاحات کی فہرست فراہم کی جا رہی ہے، آپ بھی حظ اٹھائیے۔  

آرسی مصحف کرنا: 

نکاح کے بعد دولہا اور دلہن کو آئینہ دکھانے کی ایک رسم ہوتی ہے جس میں  دولہا دلہن ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں ، اسے آرسی مصحف کہا جاتا ہے۔  

ابٹن:  

شادی کے موقع پر تیل، خوشبو، بالچھڑاور جو کے آٹے سے بنا ایک مرکب جو نرمی نکھار اور خوشبو کے لئے دلہا دلہن کولگایا جاتا ہے ۔۔  

بارات: 

مہمانوں کا جلوس جو خوب دھوم دھام سے دولہا کے ہمراہ دلہن کے گھر نکاح کی تقریب میں شرکت کے لئے جاتا ہے۔  

پالکی: 

جسے ڈولی بھی کہا جاتا ہے، یہ لکڑی سے بنی ہوئی مستطیل شکل کی ایک سواری ہے جس میں دو جانب دروازہ ہوتا ہے۔ اس کے اگے اور پیچھے موٹے ڈندے لگے ہوتے ہیں جس کی مدد سے اسے اٹھا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جایا جاتا ہے۔ ابتداء میں یہ سواری امراء کے لئے استعمال ہوتی تھی۔ پھر اسے دلہن کی رخصتی کے لئے بھی استعمال کیا جانے لگا۔ 

تاریخ ٹھیرنا: 

شادی کا دن اور تاریخ مقرر کرنے کے لئے دلہن کے گھر ایک چھوٹی سی تقریب منعقد کی جاتی ہے۔ جس میں دونوں گھرانوں کے بزرگ شریک ہوکر شادی کی تاریخ مقرر کرتے ہیں ۔۔  

تلسی دانہ:  

یہ ایک قسم کا گلے میں پہننے والا زیور یا ہار ہے۔ جو موتیوں کی لڑی پر مشتمل ہوتا ہے۔ اور دیگر زیورات کے ساتھ دلہن کی آرائش کا ایک لازمی جزو ہے۔ 

ٹپے: 

یہ پنجابی لوک گیت کی ایک صنف ہے جو شادی بیاہ کے موقع پر آمنے سامنے بیٹھ کر مقابلتا گائے جاتے ہیں۔ یہ اکثر اوقات سوال جواب کے انداز میں ہوتے ہیں جنہیں مرد اور عورت دونوں شوق سے گاتے ہیں۔ انہیں "ماہیے” بھی کہا جاتا ہے۔ 

ثقہ بند گواہ: 

ایسا معتمد اور معتبرشخص جس کے قول و فعل پر اعتبار ہو۔ نکاح کے وقت عموما دو ثقہ بن گواہان لڑکے اور دو لڑکی کی جانب سے نکاح نامے پر دستخط کرتے ہیں۔  

جوتا چھپائی:  

یہ رسم برصغیر کی شادیوں میں عام ہے۔۔ اس میں دولہا کو بطور تحفہ  دلہن کی بہنوں کو پیسے دینے پڑتے ہیں ۔۔ اور یہ رقم کہیں سو میں تو کہیں ہزار میں ہوتی ہے ۔۔ 

جہیز: 

 لڑکی کے والدین شادی کے موقع پر بیٹی کو ضرورت اور گھر کا جو سامان دیتے ہیں اسے جہیز کہا جاتا ہے۔ اس کی کوئی معین مقدار نہیں۔۔  ہر کوئی اپنی حیثیت اور خواہش کے مطابق اپنی بیٹی کو جہیز دیتا ہے۔ 

چھوہارے: 

یہ خشک کھجوریں ہوتی ہیں جوشادی کی تقریب میں نکاح کے بعد مہمانوں میں بانٹی جاتی ہیں ۔۔ 

حق مہر: 

حق مہر شادی کا ایک لازمی جزو ہے ۔۔ یہ وہ مقررہ رقم ہے جو ایک مسلمان مرد نکاح کے عوض اپنی منکوحہ کو ادا کرتا ہے یا ادا کرنے کا وعدہ کرتا ہے۔ 

خلخال: 

 پاؤں میں پہننے کا ایک زیور جسے پازیب بھی کہتے ہیں، اس میں گھنگرو لگے ہوتے ہیں، اکثر دلہنیں اسے پہننا پسند کرتی ہیں۔ 

خوشدامن: 

  شوہر یا بیوی کی والدہ کو خوشدامن یا ساس کہا جاتا ہے۔    

دودھ پلائی: 

شادی کے موقع پر دلہن کی بہنیں دولہا کو سجے ہوئے گلاس میں دودھ پیش کرتی ہیں اور اس کے عوض رقم کا تقاضا کرتی ہیں ۔۔ پاکستان اور بھارت میں شادی کی یہ رسم بہت مقبول ہے۔  

ڈھول/ ڈھولک: 

لڑکے اور لڑکی دونوں کی شادی پر بہن بھائی اور دوست مل کر ڈھولک بجاتے ہیں اور ڈھول کی ٹھاپ پر رقص کر کے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔  

ذات برادری: 

ایک ہی خاندان، قبیلہ یا قوم کے افراد ۔۔ مشرقی ممالک میں شادی بیاہ کے لئے اپنی ہی ذات برادری کو ترجیح دی جاتی ہے۔  

رخصتی:  

یہ شادی کے بعد دلہن کو دلہا کے ساتھ وداع کرنے کی رسم ہے۔۔ جس میں قران پاک کے سائے تلے دلہن کودلہا کے ساتھ اس کے گھر رخصت کیا جاتا ہے۔ دلہن کی رخصتی پربزرگ خواتین رخصتی کے گیت بھی گاتی ہیں۔ 

ڑ- بھیڑ: 

افراد کا مجمع یا انبوہ ۔۔ جو شادی اور تقریبات میں اکثر دیکھنے کو ملتا ہے۔  

زیورات: 

دلہن کی تزئین اور جسمانی سجاوٹ کے لئے زیب و زینت کی اشیاء ۔۔ جواہرات اور سونے چاندی جیسے ہار، چوڑیاں، بالیاں، پازیب وغیرہ ۔۔ آج کل پھولوں کے زیور بھی عام ہیں۔  

ژال: 

 بیوی کے لئے ژال کا لفظ بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کی اصل فارسی ہے۔ 

سہرا:  

مقیش، چاندی سونے کے تاروں ، موتیوں یا پھولوں کی لڑیاں، جو شادی  کے دن دُلہا دلہن کے سر پر باندھا جاتا ہے ۔ جس سے چہرہ ڈھک جاتا ہے۔  

سہاگ اور گھوڑیاں: 

یہ ایک قسم کے گیت ہوتے ہیں جو شادی سے کچھ روز پہلے دولہا دلہن کے گھروں میں ہم عمر لـڑکیاں اور جوان عورتیں آپس میں مل کر گاتی ہیں۔ 

شیروانی: 

جدید وضع قطع کی کالر دار اچکن۔ جو پہلے وقتوں میں بادشاہ اور امراء زیب تن کیا کرتے تھے۔ آج کل شادیوں میں دلہا پہننا پسند کرتے ہیں۔ 

شہنائی: 

یہ ایک مخصوص ساز ہے جو شادی بیاہ کے موقع پر بجایا جاتا ہے۔ ہندوستان میں خاص کرشہنائی کی آواز نیک شگون سمجھی جاتی ہے۔  

صدبرگ: 

 بہت سی پنکھڑیوں والا پھول جیسے گیندا ۔۔ جو شادی بیاہ پر مایوں اور مہندی کی تقاریب میں سجاوٹ کے لئے استعمال ہوتا ہے۔  

طاشہ: 

چھوٹا سا ڈھول جو گلے میں ڈال کر دو پتلی چھڑیوں کی مدد سے بجایا جاتا ہے۔ دلہا کی بارات پر بینڈ باجے والون میں طاشہ بردار بھی ہوتے ہیں۔  

طرہ:  

پاک و ہند میں دولہا کو جو لباس زیب تن کروایا جاتا ہے اس میں شیروانی، انگرکھا، سر پر دستار، دستار پر گو شوارہ، موتیوں کا طرہ اور سہرا شامل ہوتا ہے۔  

ظہرانہ: 

 ظہرانہ دوپہر کے کھانے کو کہتے ہیں۔ بارات کے دن دلہا اور تمام مہمانوں کی تواضع ظہرانے سے کی جاتی ہے۔ شادی کے بعد دلہا دلہن کو ان کے عزیز و اقارب کی جانب سے بھی ظہرانے پر مدعو کیا جاتا ہے۔    

عسل: 

وہ مخصوص وقت جو شادی کے بعد شادی شدہ جوڑا ایک ساتھ گزارتا ہے۔ اس کی کوئی مخصوص مدت نہیں لیکن عموماً ایک ماہ ہوتی ہے۔۔  ماہ ازدواج یا ماہ عسل منانے کا طریقہ قوموں، شہروں اور لوگوں کے طبقات کے اعتبار سے مختلف ہوتا ہے۔ کچھ لوگ شادی کے فوراً بعد کسی سیاحتی مقام کی تفریح اور وہاں ماہ عسل گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ بعض علاقوں میں دولہا اور دولہن اپنے گھر ہی میں ٹھہرے رہتے ہیں، ملنے جلنے والوں کی آمد ہوتی ہےاور دولہن کی ماں اس ان کی دعوت وغیرہ کا انتظام کرتی ہے۔ 

عقد خواں: 

لڑکے اور لڑکی کو شادی کے بندھن میں باندھنے کے لئے نکاح کی رسم ایک عقد خواں انجام دیتا ہے۔ 

غرارہ: 

پاک و ہند کا مقبول روایتی لباس، جو پہلے نواب خاندان کی خواتین کا پہناوا ہوا کرتا تھا۔ لیکن اب شادی کے موقع پر دلہن اور دیگر خواتین ذوق وشوق سے پہنتی ہیں۔  

فرشی نشست: 

مایوں اور مہندی پر چاندنی اور گاو تکیے لگا کرگیت گانے اور ڈھولک بجانے کے لئے فرشی نشستوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ 

قاضی: 

 دو شرعی گواہوں کی موجودگی میں دلہا دلہن سے ایجاب و قبول کروانا اور تمام امور نکاح قاضی انجام دیتا ہے۔ 

کھیر کھلائی: 

دلہن رخصت ہو کر جب دلہا کے گھر جاتی ہے تو وہاں اسے کھیر کھلاتی جاتی ہے ۔۔ جسے "کھیر کھلائی” کی رسم کہا جاتا ہے۔ یہ رسم بھی کافی گھرانوں میں مقبول ہے۔ 

گجرے: 

 شادی پر پھولوں کے زیورات عام ہین ۔جن میں گجرے بہت پسند کئے جاتے ہیں۔ یہ ہاتھوں میں بھی پہنے جاتے ہیں اور بالوں میں بھی لگائے جاتے ہیں۔ یہ دلہن اور شادی میں شرکت کرنے والی تمام خواتین میں یکساں مقبول ہیں۔  

گل پاشی: 

 بارات کے استقبال کے لئے دلہن کی دوست اور بہنیں دلہا اور باراتیوں پر پھول نچھاور کرتی ہیں ۔ اور انہیں خوش آمدید کہتے ہوئے پھولوں کے ہار بھی پہنائے جاتے ہیں۔  

لہنگا: 

ایک بڑے گھیر والا گھاگرا جو شادی کے موقع پر دلہن پہنتی ہے۔ اور رنگوں کا انتخاب شادی کی تقریب کے حوالے سے کیا جاتا ہے۔  

مایوں: 

یہ شادی کی ایک رسم ہے جس میں شادی سے چند دن پہلے دلہن کو زرد کپڑے پہنا کر ابٹن ملا جاتا ہے اوراس دوران گھر سے نکلنے کو اچھا شگون نہیں سمجھا جاتا۔ اکثر گھرانوں میں دلہا کو بھی مایوں بٹھایا جاتا ہے۔  

نکاح: 

نکاح شادی کا ایک اہم رکن ہے ۔۔ جو زوجین کو حلال طریقے سے ازدواجی رشتے میں باہم منسلک کرتا ہے ۔۔ نکاح کے لیے لازم ہے کہ طرفین یعنی مرد اور عورت دونوں اس پر راضی ہوں ۔۔ اور ایک ہی محفل میں ایجاب و قبول کریں۔ 

ولیمہ: 

یہ نکاح کے بعد کی ضیافت ہے جس کا اہتمام لڑکے والے کرتے ہیں۔ 

ہار: 

شادی پر ہار خواتین اور مرد دونوں پہنتے ہیں ۔۔ خواتین عموما سونے چاندی کے ہار پہنتی ہیں ۔۔ دولہا کو بارات کے موقع پرمصنوعی یا پھولوں کا ہار پہنایا جاتا ہے۔ پہلے وقتوں میں نوٹوں کے ہار بھی کافی مقبول تھے۔  

یاسمین:  

سفید رنگ کا پھول جن سے دولہا کا سہرا یا دولہن کے گجرے بنائے جاتے ہیں ۔ شادی گھر اور عروسی کمرہ میں سجاوٹ کے لئے بھی ان پھولوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔