fbpx

زندگی میں کوئی بھی کام سر انجام دینے کے لئے مناسب عمر کی شرط موجود ہوتی ہے۔ جیسے سکول میں مقررہ عمر پر ہی داخلہ ملتا ہے ۔ نوکری کے لئے بھی عمر کی ایک حد معین ہوتی ہے ۔۔ اور اس سے مطابقت نہ رکھنے والوں کے لئے نوکری کا حصول مشکل ہوتا ہے ۔۔ لیکن شادی ایک ایسی چیز ہے جس کے لئے عمر کا تعین نہیں کیا جاتا ۔۔ یہ کب، کہاں، کیسے ہو جائے کچھ پتا نہیں ۔۔

گزشتہ دنوں ایک خبر سننے کو ملی کہ سندھ اسمبلی کے ایک ممبر نے شادی سے متعلق ایک بل اسمبلی میں پیش کیا ہے ۔۔ جس کی رو سے اٹھارہ سال کی عمر تک کے بچوں کی شادی نہ کرنے والے والدین کو جرمانہ کیا جائے ۔۔

اب یہ بل منظور ہو گا یا نہیں۔۔ یہ بعد کی بات ہے ۔۔ یہاں سوال یہ ہے کہ  ایسا بل پیش کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ۔۔

شادی بیاہ جیسے معاملات ہر گھرانے کا ذاتی معاملہ ہوتے ہیں ۔۔  یہ ریاست کی ذمہ داری نہیں ۔۔ پھر حکومتی ارکین ایسی تجویز پیش کرنے پر کیوں مجبور ہوئے ۔۔

ایسا یقیناً معاشرے میں بڑھتی ہوئی بد اخلاقی اور بے راہ روی کو لگام دینے کے لئے کیا گیا ۔۔ دیکھا جائے تو ان دو خرابیوں کا تانا بانا بھی شادی کے ساتھ ہی جڑتا ہے ۔۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ کیا وجوہات ہیں جن کی بنا پر بچوں کی شادی میں تاخیر ہوتی ہے اور اس کے کیا نتائج نکلتے ہیں ۔۔

شادی میں تاخیر کی بنیادی وجہ تو غربت ہے ۔۔ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ۱۰۰ میں سے تقریباً ۲۱ افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں ۔۔ ایسے والدین ساری عمر بچوں کی شادی کے لئے بچت کرتے ہیں لیکن بڑھتی ہوئی مہنگائی، نت نئی رسومات اور بے جا توقعات ان کے مسائل کو بڑھاتی چلی جاتی ہے ۔۔ والدین کی عدم توجہ اور تعلیم کی کمی بھی بچوں کو صحیح راستے سے بھٹکانے کا باعث بن سکتی ہے ۔۔ جس کی وجہ سے شادیاں تاخیر کا شکار ہوتی ہیں ۔۔ اور نوجوان جائز یا ناجائز سے قطع نظر اپنے فطری تقاضے پورے کرنے کے لئے آسان راستہ اپنا لیتے ہیں ۔۔

بیروزگاری اور مناسب نوکری نہ ملنے کی وجہ سے بھی بعض اوقات شادی میں تاخیر ہوتی ہے ۔۔ والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ بیٹا اچھی نوکری پر لگے تب اس کی شادی کا سوچا جائے تا کہ وہ اپنی شریک حیات کی ذمہ داریاں خود اٹھا سکے ۔۔ دوسری طرف بیٹی کے والدین کی خواہش بھی یہی ہوتی ہے کہ لڑکا برسر روزگار ہو ۔۔

لوگوں کے درمیان بڑھتی ہوئی مقابلہ بازی نے بھی شادی کو مشکل کر دیا ہے ۔۔ لوگوں کی ساری عمر بچت کرنے اور بچیوں کے لئے جہیز بنانے میں گزر جاتی ہے ۔۔ اور انہیں کوئی مناسب رشتہ بھی نہیں مل پاتا ۔۔

خواتین کے اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے نوکری کرنے اور خود مختار ہونے کی خواہش بھی شادی میں تاخیر کا باعث بن رہی ہے ۔۔ والدین کو اپنی بچیوں کے ہم پلہ رشتہ کی تلاش میں دشواری ہوتی ہے ۔۔ دوران تعلیم وہ شادی نہیں کرنا چاہتیں ۔۔ تعلیم مکمل ہونے اور نوکری کے بعد وہ عمر کے اس حصے میں پہنچ جاتی ہیں جہاں انہیں باآسانی رشتہ دستیاب نہیں ہوتا ۔۔

بچوں کی شادی میں تاخیر کی جائے تو ان کے قدم غلط راستے کی جانب بڑھتے ہیں ۔۔ وہ گمراہی اور عیش پرستی میں پڑ جاتے ہیں ۔۔

اگرچہ شادی میں تاخیر معاشرہ میں اخلاقی پستی اور بگاڑ پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے لیکن ان تمام مسائل کا حل جلدی شادی کی صورت نکالنا بھی درست نہیں ۔۔

جب تک بچہ اپنے پیروں پر کھڑا نہ ہو جائے ۔۔ اسے صحیح غلط کا شعور نہ ہو، وہ رشتوں کو نبھانے اور ان میں توازن برقرار رکھنے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو، تب تک اس کی شادی سے گریز کرنا چاہئیے ۔۔ دوسری طرف بچی گھریلو امور میں طاق نہ ہو جائے ۔۔ بنیادی تعلیم نہ حاصل کر لے ۔۔ رشتے نبھانے کا فن نہ جان لے تب تک اسے کسی بندھن میں نہیں باندھنا چاہئیے ۔۔ کیونکہ بچے کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوتی ہے ۔۔ جب ایک ماں ہی بنیادی تعلیم اور شعور سے محروم ہو گی تو وہ اچھی نسل کیسے پروان چڑھا سکے گی ۔۔

شادی بیاہ کی تمام غیر ضروری رسومات اور جہیز پر پابندی لگانا ممکن نہیں لیکن عوام کو اس سے متعلق باشعور بنایا جائے ۔۔ تا کہ غریب اور سفید پوش طبقہ بھی اپنی بچیوں کو باآسانی بیاہ سکے ۔۔ حکومت تعلیم کی بنیادی سہولیات فراہم کرے تو والدین بچوں کی تربیت پر دھیان دیں ۔۔ یاد رکھیے اولاد کو پالنے اوران کی تربیت کرنے میں بہت فرق ہے ۔۔

کسی بھی قسم کے معاشرتی مسائل کو انفرادی سطح پر حل نہیں کیا جا سکتا بلکہ یہ اجتماعی ذمہ داری ہوتے ہیں ۔۔ ان کے حل اور سہولیات پیدا کرنے کے لئے حکومتی اور عوامی دونوں سطح پر عملی اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے ۔۔

 

ہمارے ہاں شادی کی عمر سے متعلق مفروضات کو روایات کی زنجیرپہنا دی گئی ہے لیکن  شادی کا مناسب وقت وہی ہے جب لڑکا اور لڑکی دونوں عاقل اور بالغ ہوں ۔۔ اور ایک دوسرے کے حقوق پورے کرنے اور اپنے فرائض ادا کرنے کی طاقت رکھتے ہوں ۔۔