اسلام نے انسان کی معاشرتی اور عائلی زندگی کو حسن اعتدال فراہم کرنے کے لیے وہ تمام قو انین اور ضابطے متعارف کرائے ہیں۔  جن میں ہر چھوٹے بڑے نکتے اور معاملے کی وضاحت فرما دی ہے۔ کوئی کمزور ہو یا طاقت ور، چھوٹا ہو یا بڑا، مرد ہو یا عورت، سب کو ان کا حق دیا ہے اور عدل اور انصاف مہیا کیا ہے۔ خاص کر خواتین کے حقوق پر نہایت توجہ دی گئی ہے۔ شوہر کی وراثت میں بیوی کا حصہ ہو یا باپ کی جائیداد میں بیٹی کا، سب قوانین واضح کر دئیے ہیں۔  

اسلامی قوانین پر جہاں بہت سے اعتراضات کیے جاتے ہیں۔ وہیں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اسلام نے احکامِ وراثت میں انصاف کے تقاضے ملحوظِ خاطر نہیں رکھے گئے۔ عورت کا حصہ مرد کے مقابلے میں آدھا رکھا گیا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ درحقیقت اسلامی نظامِ وراثت میں وارثین کے حصوں کے درمیان فرق کی وجہ مرد و عورت کا اختلاف نہیں ہے۔  بلکہ اس کے تین بنیادی عوامل ہیں۔  

 پہلا یہ کہ میّت اور وارث کے درمیان درجہ قرابت۔ جتنا وہ میّت کے قریب ہوگا اُس کا حصہ اتنا ہی زیادہ ہوگا۔ چاہے وہ مرد ہو یا عورت۔ اس اعتبار سے بیٹی کو ماں سے زیادہ حصہ ملتا ہے۔ بلکہ باپ سے بھی۔ اسی طرح بیٹے کا حصہ باپ سے زیادہ ہوتاہے۔ دوسرا یہ کہ آنے والی نسل کا حصہ جانے والی نسل کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ جس نسل نے ابھی زندگی کا بوجھ اُٹھانا ہے اُس کا حصہ زیادہ ہے۔ اور جو نسل اپنی زندگی کے اختتام پر ہے، اُسے کم حصہ ملتا ہے۔ جو ایک مبنی برانصاف اور منطقی بات ہے۔ تیسرا یہ کہ وارثوں کے حصوں میں کمی بیشی اُن کی مالی ذمے داریوں کی بنا پر ہے۔ یعنی جس کی جتنی ذمہ داری زیادہ ہوگی۔ اُس کا حصہ بھی اتنا ہی زیادہ ہوگا۔ 

شوہر کی وراثت میں بیوی کا حصہ 

میراث کی تقسیم کا ذکر آتے ہی سب سے پہلا سوال اولاد اور بیوہ کا آتا ہے کہ کیا شوہر کی میراث میں سے بیوی کو حصہ ملے گا۔ قانون کے مطابق اگر کسی شخص کی اولاد ہے۔ تو بیوہ کو شوہر کی جائیداد میں سے آٹھواں حصہ ملے گا۔ باقی حصہ اولاد میں تقسیم ہو گا۔ اگر متوفی کی کوئی اولاد نہ ہو تو بیوہ کا چوتھا حصہ ہوگا۔ 

وراثت میں دوسری بیوی کا حصہ 

دو شادیوں کی صورت میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ مرحوم کا ترکہ دو بیویوں میں کیسے تقسیم ہوگا۔ شریعت کے مطابق مرحوم کے کل ترکے کا آٹھواں یا چوتھا حصہ دونوں بیویوں میں برابر تقسیم ہوگا۔ یعنی اگر اولاد ہے تو بیواؤں کو آٹھواں حصہ ملے گا۔ اور اگر اولاد نہیں ہے تو چوتھا حصہ ملے گا۔ 

دوسرے نکاح کی صورت میں کیا بیوہ پہلے شوہر کی جائیداد میں حصہ دار ہوگی؟ 

میراث کے قوانین نہایت ہی نازک ہیں۔ جن کا سمجھنا نہایت ضروری ہے۔ اگرشوہر کے انتقال کے بعد بیوہ دوسری شادی کر لیتی ہے۔ تو شوہر کے ترکہ میں اس کا کا تو حصہ ہوگا۔ خواہ وہ عدت گزرنے کے فوری بعد دوسری جگہ نکاح کرلے یا کچھ تاخیر سے۔ تاہم نکاح کے بعد اس  بیوہ کے پہلے شوہر کی میراث میں سے دوسرے شوہر کا کوئی حق یا حصہ نہیں ہوگا۔ یعنی یہ بات واضح ہے کہ دوسرا نکاح کرلینے سے شوہرکی وراثت میں بیوی کا حصہ ختم نہیں ہوتا۔ بیوہ کو اس حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔  

بیوی کے انتقال کے بعد کیا شوہر ترکے کا وارث ہوگا؟ 

جہاں یہ بات کی جاتی ہے کے شوہر کی وراژت میں بیوی کا حصہ کتنا ہو گا۔ وہاں یہ بات جاننا بھی نہایت اہم ہے کہ بیوی کے انتقال کی صورت میں کیا شوہر اس کے ترکے کا وارث ہو گا یا نہیں۔ اگر کسی عورت کو اس کے والدین کی جانب سے ترکہ میں حصہ ملا ہے۔ اور وہ شرعی اعتبار سے اس کی ملکیت ہے۔ تو اس کے انتقال کے بعد اس کے تمام ترکے میں اس کےورثاء کا حصہ ہو گا۔ اور ورثاء میں شوہر بھی شامل ہے۔ 

عورت کے انتقال کے بعد اس کے ترکہ میں سے کفن دفن کے اخراجات ، قرض اور اگر وصیت کی گئی ہے تو ایک تہائی مال میں وصیت نافذ کرنے کے بعد بقیہ مال ورثاء میں تقسیم ہو گا۔ اولاد کی موجودگی میں شوہر کو چوتھائی حصہ ملے گا۔ اور باقی ترکہ مرحومہ کے بیٹوں اور بیٹیوں میں تقسیم کیا ہو گا۔ یہاں تقسیم کی شرع وہی ہے کہ بیٹوں کو بیٹیوں سے دوگنا حصہ ملے گا۔ اولاد نہ ہونے کی صورت میں شوہر کو کل ترکے کا نصف ملے گا۔ اور باقی نصف میں مرحومہ کے والدین اور بھائی بہن حصہ دار قرار پائیں گے۔ 

حق مہر اور ترکہ 

ہر شخص پر لازم ہے کہ وہ حق مہر اپنی زندگی میں ہی ادا کر دے۔ لیکن اگر ایسا نہیں ہوا اور شوہر کا انتقال ہو جائے۔ اس صورت میں اس کے ورثاء کی ذمہ داری ہے کہ میراث کی تقسیم سے قبل بیوہ کو اس کا حق مہر ادا کریں۔ بیوہ کا حصہ اپنی جگہ لیکن حق مہر کی ادائیگی الگ سے ہو گی۔ بیوہ کا مہر شوہر کے ذمے قرض ہے۔ اس لیے میراث کی تقسیم سے قبل حق مہر ادا کرنا لازمی ہے۔  

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ عورت کے انتقال کے بعد اس کے حق مہر کی رقم بھی ترکہ میں شامل ہوجاتی ہے۔  

کیا مطلقہ بیوی شوہر کی وراثت میں حصہ کی حقدار ہے؟ 

اگر شوہر نے حالتِ صحت یا مرض میں بیوی کے مطالبہ کے بغیر طلاقِ رجعی دے دی۔ تو عدت میں شوہر کے انتقال کی صورت میں بیوی شوہر کی میراث میں سے حصہ دار ہوگی۔ اگر شوہر نے  حالتِ صحت میں طلاقِ بائن دی ہو یا تین طلاقیں دی ہوں۔ تو شوہر کی وراثت میں بیوی کا حصہ نہیں ہو گا۔ کیونکہ مطلقہ کی جب عدت پوری ہوجاتی ہے اور وہ بائنہ ہوجاتی ہے تو نکاح کا تعلق بالکل ختم ہوجاتا ہے۔ اور وہ دونوں ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہوجاتے ہیں۔ ایک اجنبی دوسرے اجنبی کا وارث نہیں ہوتا۔ وارثت کے لیے نسبی یا ازدواجی تعلق ہونا ضروری ہے۔ 

اگر حالتِ مرض میں طلاقِ بائن یا مغلظہ دی ہو  اور عدت میں اسی مرض کی وجہ سے شوہر کا انتقال ہوگیا۔ تو  بیوی میراث کی حق دار ہوگی۔ اور اگر شوہر نے بیوی کے مطالبہ پر طلاقِ بائن دی ہو۔ خواہ حالتِ مرض  میں صحت میں۔ تب بیوی میراث کی حق دار نہیں ہوگی۔ اور ان سب صورتوں میں اگر عدت گزر جائے اور اس کے بعد شوہر کا انتقال ہو۔ تب بھی بیوی میراث کی حق دار نہیں ہوگی۔ 

 اسلام نے عورت اور مرد کے درمیان اس میراث کے اصول میں عدل و انصاف سے کام لیا ہے جس میں عقل و تدبر کی ضرورت ہے۔ میراث کے جو حصے اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائے ہیں۔ وہ اس کا طے شدہ حکم ہے۔ اس میں کسی کو کمی بیشی کا کوئی حق نہیں۔ اور ہمیں اطمینانِ قلب کے ساتھ اسے قبول کرنا چاہیے۔