زمانہ قدیم میں انسان کو اپنا پیغام ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کے لئے بہت تگ و دو کرنا پڑتی تھی۔ پھر وقت کے ساتھ ساتھ نت نئی ایجادات ہوتی چلی گئیں۔ اور پیغامات دنوں اور گھنٹوں کی بجائے سیکنڈوں میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنے لگے۔ سوشل میڈیا بھی ایک ایسی ہی ایجاد ہے۔ جس کا مقصد سماجی رابطہ اور  تفریح کا حصول سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ اس کے استعمالات ہماری سوچ سے بھی زیادہ ہیں۔ ضرورت رشتہ کو ہی لیجئے۔ کس نے سوچا تھا کہ ایک وقت ایسا آئے گا۔ جب سوشل میڈیا پلیڑ فارمز اور ویب سائٹس پر رشتے طے ہوں گے۔

 ایک سروے کے مطابق دنیا کی کل آبادی سات بلین سے زائد ہے۔ اور جس میں سے اندازا چار بلین  لوگ انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہیں۔ اورتین بلین لوگ سوشل میڈیا کے صارفین ہیں۔ اور ہر پندرہ منٹ بعد سوشل میڈیا پر ایک نئے صارف کا اضافہ ہو رہا ہے۔

 یوں تو سوشل میڈیا کے کئی فوائد ہیں۔ یہ باہمی رابطے کا ذریعہ ہے۔ علم و شعورکی راہیں بھی کھولتا ہے۔ اور ہمیں حالاتِ حاضرہ سے باخبر بھی رکھتا ہے۔ لیکن ضرورت رشتہ اور شادی بیاہ کے معاملات میں سوشل میڈیا کس طرح کام آ سکتا ہے۔ کیا آپ نے اس پر غور کیا ہے؟

پچھلے دو سال کرونا جیسی وبا نے جب پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ یہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا ہی تھا۔ جس نے ہمیں اپنے اپنے گھروں میں محصور ہوتے ہوئے بھی تنہائی کا احساس نہیں ہونے دیا۔ لوگوں کے کام اور کاروبارکچھ عرصہ تعطل کا شکار ہوئے۔ لیکن پھر انٹرنیٹ کی بدولت دوبارہ شروع ہو گئے۔

لوگوں نے گھروں کو دفتر بنا لیا۔ شاپنگ آن لائن ہونے لگی۔ دعوتوں کے سلسلے ختم ہو کر کھانا ایک دوسرے کی طرف ہوم ڈیلیوری کی صورت پہنچنے لگا۔ اور تو اور ضرورت رشتہ اور شادی بیاہ کی تیاریوں میں بھی انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا استعمال پہلے کی نسبت بہت بڑھ گیا۔

لوگوں نے جہاں شادی کے کارڈ بذریعہ واٹس ایپ بھجوانے شروع کر دئیے۔ وہیں رشتہ ویب سائٹس کا استعمال بہت بڑھ گیا۔ رشتے آن لائن دیکھے جانے لگے۔ تمام معلومات انٹرنیٹ پر حاصل کر لینے کے بعد ہی کسی کے گھر جانے کا فیصلہ ہوتا۔ اور یہ ایک بڑی مثبت تبدیلی تھی۔ جو وبا کے دن ختم ہونے کے بعد بھی اسی کامیابی سے جاری ہے۔

یوں تو ہر دور میں رشتہ کی تلاش کے لئے مختلف ذرائع اور طریقے استعمال کئے جاتے رہے ہیں۔ چند دہائیاں پہلے تک گاؤں کے بڑے بزرگ بن کہے بچے اور بچیوں کے رشتوں میں پیش پیش ہوتے تھے۔ برادری سسٹم طاقتور تھا۔ انہیں دور دراز کے علاقوں میں رہنے والوں کی ذات پات، سماجی حیثیت، آپس کی رشتہ داریوں یہاں تک کے دشمنیوں کا بھی پتا ہوتا تھا۔ کچھ لوگ باقاعدہ یہ کام کرتے تھے۔ اور ان سب معلومات کا رکھنا ان کی پیشہ ورانہ مجبوری تھی۔ جبکہ زیادہ تر بزرگ اپنا فرض سمجھتے ہوئے ایسے کام سر انجام دیا کرتے تھے۔

پھر ذرا ترقی ہوئی۔ لوگوں نے تعلیم اور روزگار کے لئے گاوں اور دیہاتوں سے ہجرت کر کے شہروں میں رہائش اختیار کی۔ لوگ تعلیم اور سماجی حیثیت تبدیل ہونے کے بعد اپنے رشتہ داروں اور خاص کر دیہاتوں میں اپنے بچوں کی شادیاں کرنے سے اجتناب برتنے لگے۔ بڑے شہروں میں جان پہچان کم ہونے کی وجہ سے رشتہ کی تلاش میں مشکلات پیش آنے لگیں۔ تو اس کا حل اخبارات میں ضرورت رشتہ کے اشتہارات چھاپنے کی صورت نکلا۔

 یہ ایک بالکل نیا تجربہ تھا۔ ابتداء میں جس کے فوائد بھی نظر آئے۔ لیکن پھر اس پر بھی تجارت پسندی کے تمام اصول لاگو ہوتے چلے گئے۔ اخبارات کو کسی کی شادی اور درست معلومات چھاپنے سے زیادہ اپنے منافع سے غرض تھی۔ لوگ مہنگے داموں یہ اشتہارات اخبارات میں چھپواتے۔ اشتہارات کے لئے چونکہ اخبار میں ایک الگ صفحہ مختص ہوتا ہے۔ جس کی قیمت اچھی خاصی لی جاتی تھی۔ تو ان کی چاندی ہونے لگی۔ اشتہار کی عبارت میں جھوٹ اور مبالغے کی آمیزش ہونے لگی۔

اشتہارات کی یہ ترقی دیکھ کر کچھ برادری یا غیر سرکاری تنظیموں نے اس میں اپنا حصہ ڈالنا ضروری سمجھا۔ اور فی سبیل اللہ اشتہارات کے نام پر خاص و عام کو لوٹنے کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا۔ یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ یہ ضرورت رشتہ کے اشتہارات  اپنے رسائل یا جریدوں میں بظاہر مفت چھاپے جاتے تھے۔ لیکن کسی فنڈ یا چندے کی مد میں معصوم عوام سے ہزاروں روپے نکلوا لئے جاتے تھے۔

انہی کی دیکھا دیکھی رشتہ آنٹیوں کا آغاز ہوا۔ جو باقاعدہ ایک شعبہ کی صورت اختیار کر گیا۔ یہ تیز طرار خواتین گلی محلے اور بعض اوقات شہر کے بیشتر گھروں کی، جہاں تک انہیں رسائی مل جاتی، خبر رکھنے لگیں۔ اور اپنی چکنی چپڑی باتوں سے لوگوں کو اپنے دام میں پھنسانے لگیں۔

رشتہ کروانے کی صورت میں فریقین سے پیسے بٹورنے کے ساتھ ساتھ یہ لڑکی یا لڑکا دیکھنے کیے لئے بھی گھر والوں کے ساتھ ہوتیں ۔ جہاں دونوں گھروں سے انہیں کھانے پینے اور کرایہ بھاڑا لینے کا موقع ملتا۔ وہیں رشتے طے ہو جانے کی صورت فریقین سےکپڑے اور رقم کے علاوہ کچھ تو زیور کی فرمائش بھی کر دیا کرتی تھیں۔

یہ کاروبار چل نکلا تو ان خواتین نے گھر گھر جانے کی بجائے شادی دفاتر بنائے۔ اور ان کی تشہیر شروع کر دی۔ اب یہ فریقین کے گھر جانے کی بجائے انہیں اپنے دفتر آنے کی دعوت دیتیں۔ انہوں نے باقاعدہ رشتہ رجسٹر تیار کئے۔ جس میں لڑکیوں اور لڑکوں کی تمام معلومات درج ہوتی تھیں۔ اور تصویری البم بھی دستیاب ہوتا تھا۔ والدین ایڈوانس فیس جمع کرواتے۔ البم سے کوئی لڑکی یا لڑکا پسند کرتے اور اس کی تمام معلومات حاصل کرتے۔ ان خاتون کے دفتر میں فریقین کی ملاقات ہوتی۔ بات پکی ہوتی۔

دونوں گھرانوں سے اچھے خاصے پیسے لینے کے بعد ان خاتون کا کام ختم ہو جاتا۔ انہیں اس بات سے کوئی غرض نہ ہوتی تھی کہ درج کی گئی معلومات کس حد تک درست ہیں۔ یا دونوں فریقوں میں سے کسی نے غلط بیانی تو نہیں کی۔ اکثر لوگوں کی اصلیت شادی کے بعد سامنے آتی۔ اور یوں لوگوں کا اعتبار ان رشتہ آنٹیوں سے بھی اٹھتا چلا گیا۔

لیکن کہتے ہیں کہ "ضروت ایجاد کی ماں ہے”۔ ایک در بند ہو تو سو در کھلتے ہیں۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی ترقی نے جہاں رشتوں کے لئے ایک نیا در "رشتہ ویب سائٹس” کی صورت کھولا۔ وہیں گزرتے وقت نے یہ ثابت کیا کہ ضرورت رشتہ کا یہ ذریعہ باقی تمام ذرائع کی نسبت بہتر اور قابل بھروسہ ہے۔

کیونکہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا استعمال ہر گھر میں عام ہے۔ ان ویب سائٹ پر چھپنے یا اپلوڈ ہونے والے رشتوں کی تصدیق فوری طور پر ممکن ہے۔ اب کون لڑکی یا لڑکا ایسا ہے جس کی پروفائل فیس بک، انسٹاگرام یا ٹویٹر پر موجود نہ ہو۔ لوگ کن شخصیات کو فالو کر رہے ہیں۔ کون سے گروپس کا حصہ ہیں۔ ان کا سیاسی نقطہ نظر کیا ہے۔ ان کا معاشرتی اور سماجی رویہ کیسا ہے۔ اس سب کی تصدیق سوشل میڈیا کے ذریعے ممکن ہے۔

رشتہ ویب سائٹس پر آپ تعلیم، پیشہ، ذات، شہر، مذہب جیسی ترجیحات کے ذریعے رشتہ کی تلاش منٹوں میں کر سکتے ہیں۔ امیدوار کی بنیادی یا مکمل معلومات آپ کے سامنے ہوتی ہیں۔ آپ ان میں سے کسی بھی امیدوار کا انتخاب کر کے ان سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ اگر کہا جائے کہ طریقہ کار بالکل ایسے ہے جیسے ہم ونڈو شاپنگ کرتے ہیں۔ یا کسی دوکان میں ہمارے سامنے تمام ملبوسات لٹکے ہوتے ہیں اور ہم ان کی خصوصیات دیکھ کر انہیں منتخب کر لیں۔

ایسے خریدار اور دوکاندار دونوں ایک کے بعد دوسرا لباس دکھانے کی زحمت سے بچ جاتے ہیں۔ آپ کو جو لباس پسند آئے آپ اس کی خصوصیات دیکھتے ہیں۔ اور خرید لیتے ہیں۔ اسی طرح کسی رشتہ ویب سائٹ پر آپ اپنی تمام معلومات درج کرتے ہیں۔ جن میں بعض ویب سائٹس پر مکمل اور کچھ پر جزوی معلومات تک رسائی دی گئی ہوتی ہے۔ آپ بنیادی معلومات دیکھ کر کسی سے رابطہ کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ اور آن لائن گفتگو کے بعد دونوں گھرانے ملاقات کا اہتمام کر لیتے ہیں۔ یوں سب کے ہی وقت، توانئی اور پیسے کی بچت ہوتی ہے۔ اور ایک رشتہ تکمیل کے مراحل تک پہنچ جاتا ہے۔

اس طریقہ کار کو پاکستان میں اگرچہ ابھی بہت پزیرائی نہیں مل رہی۔ لیکن انے والے وقت میں لوگ اس کی اہمیت سے واقف ہو جائیں گے۔ جو لوگ اب بہت سی رشتہ سائٹس جیسا کہ "سمپل رشتہ” کی دی گئی سہولیات سے فائدہ نہیں اٹھا رہے۔  وہ آنے والے وقت میں منہ مانگی فیسوں کے ساتھ انہی ویب سائٹس کی خدمات حاصل کرنے پر مجبور ہوں گے۔

کیونکہ آج سے چند دہائیاں قبل تو کسی نے فیس بک، ٹویٹریا انسٹاگرام جیسی سوشل میڈیا ایپس کے بارے میں بھی نہیں سنا ہو گا۔ اور جب یہ ایپس متعارف ہوئیں تو اب ان پر موجود صارفین کی تعداد کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ نصف سے زائد آبادی یعنی ۵۹ فیصد لوگ سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں۔ اور ایک شخص کا ایک دن میں سوشل میڈیا پر گزارا جانے والا وقت تقریبا اڑھائی گھنٹے ہے۔

پاکستانی معاشرے میں جہاں تعلیم یافتہ اور باشعور لوگوں کی کمی نہیں۔  وہیں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جیسے تربیت کی اشد ضرورت ہے۔ جو سوشل میڈیا ایپس کا مثبت کی بجائے منفی استعمال زیادہ کر رہا ہے۔ اور اس کا نقصان ان کے اور باقی سب کے ساتھ ساتھ رشتہ ایپس کو بھی اٹھانا پڑتا ہے۔ جنہیں بیشتر لوگ بنا کسی تصدیق اور تجربے کے جھوٹا اور جعلی قرار دے دیتے ہیں۔ حالانکہ اس میں قصور ان ایپس کا نہیں، بلکہ ان کے غلط استعمال کا ہے۔

سمپل رشتہ عوام میں شعور پیدا کرنے میں اپنا پورا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس کی بہترین مثال ان کی ویب سائٹ، بلاگز اور سوشل میڈیا پیجز ہیں۔ جو اپنی خدمات کی تشہیر کے علاوہ ہلکے پھلکے مزاح کے ساتھ سنجیدہ موضوعات کا احاطہ بھی بخوبی کر رہے ہیں۔

رشتے کی تلاش اور شادی ایک ایسا موضوع ہے جس پر جتنا لکھا جائے اتنا ہی کم ہے۔ لیکن یہاں ہم یہ جاننا چاہیں گے کہ

"کیا آپ ضرورت رشتہ کے لئے کسی ویب سائٹ یا سوشل میڈیا پلیڑ فارم سے رجوع کرنا پسند کریں گے؟”

"اگر آپ نے کسی رشتہ ویب سائٹ کی خدمات حاصل کی ہیں تو تجربہ کیسا رہا؟”

ہمیں آپ کے جوابات اور آراء کا انتظار رہے گا۔ ہمارے نئے آنے والے بلاگز آپ کو بروقت مل جائیں۔ اس کے لئے آپ "سبسکرائب” کا بٹن کلک کر سکتے ہیں۔ اور کسی اچھے رشتے کی تلاش کے لئے ہماری ویب سائٹ وزٹ کرنا نہ بھولیے گا۔