fbpx

مشرقی معاشرے میں شادی کے وقت اس بات کا خصوصی طور پر خیال رکھا جاتا ہے کہ لڑکی کی عمر لڑکے سے کم ہو۔ اگرچہ یہ چیز شادی شدہ زندگی میں کامیابی کی ضمانت نہیں۔ ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے ہمیں اس کی عمدہ مثال ملتی ہے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑی اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بہت چھوٹی تھیں۔ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کے ساتھ نہایت محبت بھری زندگی گزاری۔ 
معاشرے میں یہ بات عام دیکھنے کو ملتی ہے کہ کوئی مرد اپنے سے زیادہ عمر کی خاتون سے شادی کر لے تو اسے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی خاتون کسی بڑی عمر کے مرد سے شادی کر لے تواسے بھی یہ ضرور باور کروایا جاتا ہے کہ اس کا فیصلہ درست نہیں۔ 
سائنسی حوالے سے بات کی جائے تو محققین کا کہنا ہے کہ عمر کا فرق جتنا زیادہ ہو گا شادی کی ناکامی کا خطرہ اتنا ہی بڑھتا چلا جائے گا۔ اٹلانٹا کی ایک یونیورسٹی نے کچھ جوڑوں پر تحقیق کی، اور یہ نتیجہ نکالا کہ جن جوڑوں کی عمر میں پانچ سال سے زیادہ  فرق تھا ان کی شادی ناکام ہونے کے مواقع زیادہ اور جن کی عمر میں ایک سال یا اس سے بھی کم فرق تھا ان کی شادی ناکام ہونے کا مواقع بہت کم ہوتے ہیں۔ 
عام طور پر دیکھا جائے توعمر کا فرق اتنی اہمیت نہیں رکھتا جتنا کہ عادات، دلچسپیاں اور مقاصد، جو ہرعمر کے شخص میں مختلف ہوتی ہیں۔ 
والدین اپنے بیٹے کے لئے کم عمر لڑکی کے خواہشمند کیوں ہوتے ہیں اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ کم عمر لڑکیاں کسی بھی ماحول میں با آسانی خود کو ڈھال لیتی ہیں۔ دوسرا ان میں بڑی عمر کی خواتین کی نسبت کشش زیادہ ہوتی ہے۔  وہ زندہ دل ہوتی ہیں۔ شادی کا ایک مقصد سکون اور خوشی حاصل کرنا بھی ہے۔ کم عمر لڑکی اپنی زندہ دلی اور نرم فطرت کے باعث ہر کسی کے دل میں جلدی گھر کر لیتی ہیں۔ 
دوسری وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ عورت کی عمر جتنی زیادہ ہو گی اولاد کے حصول اور پیدائش میں اسے اتنی زیادہ پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ 
شادی کے بعد عورت پر چونکہ گھرداری اور بچوں کی ذمہ داری پڑ جاتی ہے۔ جو کہ ایک مسلسل اور تھکا دینے والا کام ہے۔ اس لیے بھی والدین کم عمر لڑکی کو بہو بنانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ 
لیکن بعض اوقات لڑکی کا عمر میں زیادہ ہونا فائدہ مند بھی ثابت ہوتا ہے۔ ایسی خواتین تجربہ کار اور سمجھدار ہوتی ہیں۔ گھر اور بچوں کی ذمہ داریوں کو بہتر طریقے سے سنبھال سکتی ہیں۔ اور شوہرکے ذہنی اور معاشی استحکام میں بھی معاون ثابت ہوتی ہیں۔ 
حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی شادی کی کامیابی میں اچھی جسمانی اور ذہنی صحت، مالی خودمختاری، معاشی خوشحالی اور جذباتی وابستگی اہمیت رکھتی ہے۔ باہمی محبت اور تفہیم، تعاون، رویے اور اعتماد جیسی خوبیاں اسے مضبوط کرتی ہیں۔ عمروں کا فرق اتنی اہمیت نہیں رکھتا۔ کیونکہ اگر ایسا ہونے لگے تو کوئی بھی شخص بیوہ یا مطلقہ سے شادی کا خواستگار نہیں ہو گا۔ اور کم عمر لڑکیوں سے شادی کو ہی ترجیح دے گا۔ ایسی لڑکیاں جن کی عمر زیادہ ہو چکی ہے اور ابھی تک مناسب رشتہ نہیں مل سکا ، ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہو گا۔ 
کسی جریدے میں ایک تحقیق شائع ہوئی تھی جس میں بتایا گیا کہ اگر مرد ایسی عورت سے شادی کرے جو عمر میں اس سے بڑی ہو تو ان کی زندگی زیادہ خوشگوار گزرتی ہے ۔۔ اکثر مرد اپنے سے بڑی عورت کو ان کی ذہنی پختگی اور خود اعتمادی کی بدولت پسند کرتے ہیں۔ اور شادی کی صورت میں ان کا ازدواجی تعلق مضبوط اور دوسروں کی نسبت طویل ہوتا ہے۔