fbpx

ارسطو کا کہنا تھا۔۔

’’انسان ایک مہذّب معاشرتی جانور ہے، وہ تنہا زندگی نہیں گزار سکتا۔ اُسے بہتر زندگی گزارنے کے لیے اپنے جیسے دیگر انسانوں کی ضرورت پڑتی ہے”دنیا کے تمام معاشروں میں رہن سہن اور زندگی گزارنے کے کچھ طریقے اور آداب ہیں۔ معاشرے کی سب سے مضبوط اور بنیادی اکائی ایک خاندان ہوتا ہے۔ خاندان سے مراد انسانوں کا ایسا گروہ جو آپس میں خونی رشتے دار ہوں یا اُن میں کوئی قانونی رشتہ استوار ہو۔ خاندان کو اپنی ساخت کے اعتبار سے کئی اقسام میں تقسیم کیا جاسکتا ہے، لیکن اس کی دو اقسام قابل ذکر ہیں۔’’انفرادی یا اکائی خاندانی نظام‘‘ جو شوہر بیوی اور اُن کی اولاد پر مشتمل ہوتا ہے۔ دوسرا ’’مشترکہ خاندانی نظام‘‘ جہاں دو یا دو سے زیادہ نسلیں مل کر رہ رہی ہوں۔  مشترکہ خاندانی نظام دنیا کی تمام تہذیبوں میں ہمیشہ سے پایا جاتا رہا ہے۔ برصغیر میں بھی یہ خاندانی نظام ایک نہایت اہم ستون رہا ہے۔ لیکن جوں جوں معاشرہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا گیا اس نظام کی ڈور کمزور ہوتی چلی گئی۔ خاندان کے وہ تمام افراد جو ایک ساتھ ایک چھت کے نیچے رہنا پسند کرتے تھے علیحدہ زندگی گزارنے کو ترجیح دینے لگے۔ یہ نااتفاقی خاندانوں کو اگرچہ کئی مسائل سے دوچار کر رہی ہے لیکن انسانیت کی بقا اسی میں ہے کہ وہ بدلتے وقت کے ساتھ خود کو بدلے اور نئے دور کی تبدیلیوں اور تقاضوں کوقبول کرے۔

مشترکہ خاندانی نظام کے فوائد:

مشترکہ خاندانی نظام کے بہت سے فائدے ہیں۔ یہ نظام جہاں خاندانوں کے رہن سہن کو سہل بناتا ہے وہیں ایک گھر میں رہنےوالوں کے غم اور پریشانیوں کو بانٹ کرانہیں مایوسی کی دلدل میں جانے سے بھی بچاتا ہے۔ ان میں باہمی انحصار فروغ پاتاہے۔ اس خاندانی نظام میںرہنے والے بچوں کی تعلیم و تربیت اچھی ہوتی ہے۔ یہ نظام بچوں کے لئے بہترین تربیت گاہ ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ والدین کے ساتھ ساتھ گھر کے بزرگ بھی بچوں کی  تربیت میں حصہ دار ہوتے ہیں۔ والدین اگر نوکری پیشہ ہوں تو ان کی عدم موجودگی میں بھی بچوں کو بھرپور توجہ ملتی ہے۔ مشترکہ نظام میں رہتے ہوئے بچے دوسروں کی ضروریات اور خواہشات کا احترام کرنا سیکھتے ہیں۔ ان میں برداشت کا مادہ، بڑوں کی بات سننے اور اس پرعمل کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔ یہ بچے جب تعلیمی یا عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں تو ان میں لوگوں کے مزاج اور رویے سمجھنے‘ ان کے ساتھ تعاون کرنے اور مختلف حالات و مشکلات میں صبر اور برداشت کا دامن تھامے رہنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔ وہ اپنے آپ کو با آسانی نئے ماحول میں ڈھال لیتے ہیں یا اسکے ساتھ مطابقت پیدا کر لیتے ہیں۔ مشترکہ خاندانی نظام میں رہنے والے لوگ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونے کے ساتھ تہوار اور خوشی کے موقعوں پر بھی بھرپور طریقے سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ کسی تقریب کی مل کر تیاری کرنے یا کوئی تہوار اکٹھے منانے سے ان گھرانوں کے بچے اپنی روایات، اقدار اور ثقافت سے روشناس ہوتے ہیں۔ مشترکہ خاندانی نظام میں رہنے والے افراد پر معاشی بوجھ بھی کم ہو جاتا ہے۔ کام اور ذمہ داریاں افراد خانہ میں تقسیم ہو جاتی ہیں۔ جب کام آپس میں بانٹ لیا جاتا ہے تو کسی پر اضافی بوجھ بھی نہیں پڑتا۔ اسکے علاوہ ایک ساتھ کاروبار کرنے سے آمدنی میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور دولت کا ارتکاز ہوتا ہے۔ مل جل کر رہنے میں برکت سمیت دیگر بہت سے فائدے بھی پنہا ہیں۔ والدین کی دیکھ بھال اور نگہداشت بہتر ہوتی ہے۔ ماں باپ بھی بچوں کے ساتھ رہنے سے سکون محسوس کرتے ہیں۔ بعض اوقات شوہر اور بیوی میں اختلافات یا غلط فہمی پیدا ہو جاتی ہے جو ان کی ازدواجی زندگی کو متاثر کرتی ہے۔ ایسے میں گھر کے بزرگ اپنا کردار ادا کرتے ہیں، طرفین کو ان کی غلطیوں کا احساس دلا کر اختلافات ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہیں کامیاب ازدواجی زندگی کے گُر بتاتے ہیں۔ یہ سب تبھی ممکن ہے جب باہمی اختلافات کم ہوں یا افراد خانہ خود بھی مل کر رہنا چاہتے ہوں۔ لیکن اگر باہمی اختلافات زیادہ ہو ں تو روز روز کے جھگڑوں سے بچنے کے لئے بہتر ہے کہ الگ رہ لیا جائے۔ کیونکہ باہمی اختلافات بچوں کی شخصیت اور نفسیات پر بھی برا اثر ڈالتے ہیں۔

مشترکہ خاندانی نظام کے نقصانات:

مشترکہ خاندانی نظام کے جہاں بہت سے فوائد ہیں وہاں اس نظام کی ناہمواریوں اور نقصانات سے بھی انکار ممکن نہیں۔ دور حاضر میں ہونےوالی ترقی نے دنیا کے مختلف معاشروں کو آپس میں مدغم کردیا ہے۔اس وجہ سے جہاں ہماری معاشرتی اور ثقافتی اقدار میں تبدیلی آئی ہے وہیں بہت سے مسائل نے بھی جنم لیا ہے۔ مغربی معاشرے کی تقلید میں لوگ اپنی روایات کوبھولتے جا رہے ہیں۔ ان میں سے ایک مسئلہ مشترکہ خاندانی نظام کو ناپسندیدہ قرار دینے کا بھی ہے۔ اس نظام میں کچھ بے اعتدالیاں بھی پائی جاتی ہیں۔ اصل الجھاؤ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ایک گھر میں رہنے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوجائے۔ جس کی وجہ سے ان کی ضروریات اور ترجیحات بڑھ جاتی ہیں، گھر چھوٹے پڑ جاتے ہیں۔ خواتین پر خاص کر اس کا زیادہ اثر پڑتا ہے۔ مردوں کا زیادہ وقت گھر سے باہر گزرتا ہے۔ لیکن ایک ہی چھت کے نیچے وقت گزارنے والی خواتین پر بات بے بات اختلاف ہونے لگتا ہے۔ عدم برداشت کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ کئی نفسیاتی مسائل جنم لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس نظام میں رہتے پردہ کے احکامات پر عملداری بھی مشکل ہو جاتی ہے۔ نجی زندگی کا تحفظ نہ ہونے کی وجہ سے افراد خانہ خاص کر خواتین بے اطمینانی اور بے سکونی کی کیفیت سے دوچار ہوتی ہیں۔ جن گھرانوں میں مشترکہ خاندانی نظام ہو وہاں اسی بیٹے یا بھائی کی حاکمیت ہوتی ہےجو معاشی طور پر مضبوط ہو۔ دوسرے افراد اس وجہ سے احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان کے درمیان چھوٹی چھوٹی باتوں پر اختلاف شروع ہوجاتا ہے۔ مشرقی معاشرے میں یہ روایت ہے کہ شادی کے بعد لڑکا اور لڑکی مشترکہ خاندانی نظام میں ہی رہتے ہیں۔ اگر کوئی جوڑا الگ رہنا چاہے تو اسے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ مشترکہ خاندانی نظام میں شوہر اور بیوی کو ساتھ رہنے اور وقت گزارنے کے مواقع کم ہی ملتے ہیں۔ کھانے پینے، پہننے اوڑھنے، آنے جانے، تمام معاملات میں انہیں اپنی پسند اور  ترجیحات سے دست بردار ہونا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ بچوں کی تربیت، ان کے کھانے پینے، پڑھنے اور کھیلنے کے اوقات متعین کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ اس نظام میں گھر کے بعض افراد سستی اور کاہلی کا شکار ہو جاتے ہیں، وہ اپنی معاشی ضروریات پوری کرنے کے لئے بھی گھر کے بڑوں پر انحصار کرتے ہیں۔ مشترکہ خاندانی نظام کے جہاں بہت سے فوائد ہیں وہیں کئی نقصانات بھی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنے وسائل اور حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی خاندانی نظام کو اپنایا جائے۔