fbpx

بحیثیت انسان ایک مرد اور عورت میں کوئی فرق نہیں، دونوں کا مقام اور مرتبہ ایک جیسا ہے۔ لیکن دونوں کی ذمہ داریاں، حقوق و فرائض، ساخت، طبیعت اور نفسیات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔

مرد اور عورت کے درمیان اس فرق پر امریکہ کے مشہور مصنف جان گرے (John Gray) نے ایک کتاب لکھی، جس کا عنوان ہے ۔۔
"Men are from MARS, Women are from VENUS”

اس کتاب میں انہوں نے مرد اور عورت کے مابین پائے جانے والے فرق کو واضح کیا ہے کہ ان میں اتنا فاصلہ ہے جتنا کہ مریخ اور وینس میں ۔۔ اور فرق ایسا ہے گویا وہ دو مختلف سیاروں کی مخلوق ہوں۔

جان گرے ایک جگہ لکھتے ہیں کہ ۔۔

"اس کتاب سے یہ پتہ چلتا ہے کہ مرد اور خواتین اپنی زندگی کے تمام شعبوں میں کس طرح مختلف ہیں۔ مرد اور خواتین نہ صرف مختلف بات چیت کرتے ہیں بلکہ وہ مختلف انداز میں سوچتے، محسوس کرتے ، ادراک کرتے، رد عمل دیتے، جواب دیتے ہیں ، محبت کرتے ہیں ، ضرورت محسوس کرتے اور تعریف کرتے ہیں۔ یہ لگ بھگ مختلف سیاروں سے ہیں، مختلف زبانیں بولتے ہیں اور ان کو مختلف غذاؤں کی ضرورت ہوتی ہے”

ایک مرد اور عورت کی ذمہ داریاں حقوق اور فرائض یکساں نہیں ہیں۔ رشتہ والدین طے کریں یا آن لائن شادی ہو ،بہت سے رشتوں میں دراڑ اس وجہ سے آتی ہے کہ اس فرق کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا جاتا۔

ہم مرد اور عورت کو ایک ہی سانچے میں ڈھلا ہوا سمجھتے ہیں۔

 

اس وجہ سے اکثر رشتوں میں اختلاف پیدا ہوتا ہے اور نوبت تعلق ختم ہونے تک آ جاتی ہے۔ ایک مثالی زندگی گزارنے کے لئے ان اختلافات اور ایک دوسرے کے حقوق و فرائض کو مد نظر رکھنا نہایت ضروری ہے۔

جب ہم شادی اور اس کے مختلف پہلووں پر غور کریں یا یہ دیکھیں کہ شادی ایک مرد یا عورت پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہے تو یہ فرق ہمیں یہاں بھی نظر آتا ہے۔

شادی شدہ مرد غیر شادہ شدہ کے مقابلے میں اپنے مستقبل اور ملازمت کے بارے میں زیادہ سنجیدہ ہوتے ہیں اور بنسبت غیر شادی شدہ کے،زیادہ کماتے ہیں۔

اس کے برعکس خواتین شادی کے بعد اپنی ملازمت کے بارے میں اتنی سنجیدہ نہیں رہتیں۔ کیونکہ ایک تو ان پر گھریلو ذمہ داریوں کا بوجھ پڑ جاتا ہے اور پھر بچے ہو جانے کے بعد ان کی مصروفیات میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔

اور دوسرا یہ کہ ان کی ذمہ داری شوہر اٹھا لیتا ہے تو اس وجہ سے بھی ان کی توجہ ملازمت اور کمائی سے ہٹ جاتی ہے اس لئے بیشتر خواتین گھریلو ذمہ داریوں کو ملازمت پر ترجیح دیتی ہیں۔
ایک تحقیق کے مطابق شادی شدہ افراد کی ذہنی صحت بہتر اور عمر لمبی ہوتی ہے۔ کیونکہ شادی مردوں کی صحت پرایک خوشگوار اثر ڈالتی ہے۔ انہیں جب ایک اچھے ہمسفر کا ساتھ نصیب ہوتا ہے، ایک خیال رکھنے والی بیوی ان کی سب ذمہ داریاں بن کہے اٹھا لیتی ہے ۔۔
ان کے دل تک پہنچنے کے لئےمعدے کو راستہ بناتی ہے تو نتیجتا اچھی خوراک اور توجہ ملنے پر مرد کی صحت پہلے سے بہتر ہو جاتی ہے۔ اس کے مقابلے میں عورت کو دیکھا جائے تو گھریلو کام کاج اور بچوں کی ذمہ داری پڑنے پر زیادہ تر عورتیں اپنی صحت سے غافل ہو جاتی ہیں۔ اور بیماریوں کا شکار زیادہ ہوتی ہیں۔
ایک تحقیق کے مطابق شادی شدہ خواتین میں دل کی بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
ایک اور فرق جو مرد وخواتین کے درمیان پایا جاتا ہے وہ ان کی سوچ اور جذبات کے اظہار کا ہے ۔۔
مرد شادی سے پہلے جس طرح اپنے جذبات کا اظہار کرتا ہے شادی کے بعد اس میں کمی آ جاتی ہے۔ شادی سے پہلے تمام ضروری اور متعلقہ تہوار اسے یاد رہتے ہیں ۔ وہ وقتا فوقتا محبت کے اظہار کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔ لیکن شادی کے بعد اس میں واضح فرق آ جاتا ہے۔ اور وہ پہلے کی طرح جذبات کے اظہار سے غافل ہو جاتا ہے۔ جبکہ عورت سب کچھ پہلے کی طرح ہی کرتی اور چاہتی ہے۔

ان بظاہر چھوٹی چھوٹی لیکن اہم باتوں کی وجہ سے اکثر شادی شدہ جوڑوں میں تضاد اور اختلاف پیدا ہوجاتا ہے ۔ شادی کے بعد مرد اور عورت دونوں ایک دوسرے کی حدود، جذبات اور عادات سے جتنا جلد واقف ہوں، اتنا ان کے لئے بہتر ہے۔

ایک دوسرے کی عادات کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کی کوشش کریں۔ بات چیت ایک مضبوط رشتے کی اساس ہے۔ جو جوڑے اختلاف کے بعد بات چیت بند کر دیتے ہیں انہیں بہت سے معاملات میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انہیں نہ صرف اختلافات کے وقت بلکہ عام طور پر بھی ایک دوسرے کے لئے وقت نکالنا چاہئیے، ایک دوسرے کی پریشانیاں بانٹنی چاہئیں۔ تا کہ زندگی کا سفر خوشگوارطریقے سے گزر سکے۔