fbpx

مشرقی معاشروں میں اٹھارہ سے بائیس سال کی عمر تک لڑکی کی شادی کر دینا آئیڈیل سمجھا جاتا ہے۔ خواہ اس کی تعلیم مکمل ہوئی ہو یا نہیں۔ والدین کا خیال ہوتا ہے کہ لڑکی جتنی کم عمر ہو گی اتنی جلدی وہ خود کو سسرال میں ماحول میں ڈھال لے گی۔ یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے کہ کم عمر بچیاں خود کو جلد سسرال کے رنگ میں رنگ لیتی ہیں۔ لیکن یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اعلی تعلیم ایک لڑکی کی شادی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بلکہ ایک خوبی متصور ہونی چاہئیے۔ ماں کی گود کو بچے کی پہلی درسگاہ کہا گیا ہے۔ جب ایک ماں ناخواندہ یا کم پڑھی لکھی ہو گی تو اس کا اثرلازمی طور پر اس کے بچوں کی تعلیم و تربیت پر بھی پڑے گا۔ پڑھی لکھی مائیں اپنے بچے کی صحت و تعلیم و تربیت کا بہتر طور پر خیال رکھ سکتی ہیں، ایسے بچے زیادہ توانا اور تعلیمی اور عملی میدان میں کامیاب ہوتے ہیں۔
تعلیم حاصل کرنے کے لئے مرد اور عورت کی تخصیص کسی مذہب میں نہیں کی گئی۔ بلکہ تعلیم تو انسان کی شخصیت کو نکھارنے کے ساتھ ساتھ زندگی کی کئی مشکلات میں اس کی ڈھال ثابت ہوتی ہے۔ دوران تعلیم لڑکیوں کو نئے تجربات اور حقوق و فرائض سے آگاہی ہوتی ہے۔ لیکن آج بھی بہت سے گھرانے ایسے ہیں جہاں ضرورت رشتہ کے قائم کئے گئے معیار میں لڑکیوں کی اعلی تعلیم، سوچ، پختگی اور شعور کو اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ اور پھر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ چوبیس پچیس سال سے عمر تجاوز کر جائے تو رشتے کا حصول بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ کیونکہ ماؤں کو اپنے بیٹوں کے لئے چاند سی دلہن اور کم عمر لڑکی چاہئیے ہوتی ہے۔ ایسی خواتین کی نظر میں سولہ یا زیادہ جماعتیں پڑھ جانے تک لڑکی زیادہ عمر کی ہو جاتی ہے۔ اور اس کے رویہ میں بھی تبدیلی آ جاتی ہے۔ اس لئے بھی بعض گھرانے لڑکیوں کی اعلی تعلیم کے حق میں نہیں ہوتے۔ وہ الگ بات کہ اچھے رشتے کی تلاش میں ان کم پڑھی لکھی بچیوں کی عمر گزرنے کا خدشہ بھی اپنی جگہ موجود ہوتا ہے۔ لہذا والدین کم عمری میں ہی بچی کی شادی کر کے اس خوف سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
کچھ نوجوانوں کا یہ ماننا ہوتا ہے کہ پڑھی لکھی لڑکی جو نوکری کی خواہش بھی رکھتی ہو وہ زیادہ با اختیار اور پر اعتماد ہوتی ہے۔ اور شوہر یا سسرال والوں کی تابعدار بن کر نہیں رہتی۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ پڑھی لکھی بچیوں کو اپنے تابع رکھنے کی کوشش میں ان پر بہت روک ٹوک کی جاتی ہے اور بعض اوقات تو ہاتھ تک اٹھانے سے گریز نہیں کیا جاتا۔ معاشرے میں ایسی دقیانوسی سوچ کے حامل افراد کی بھی کمی نہیں جو مخلوط اداروں یا دفاتر میں کام کرنے والی تعلیم یافتہ لڑکیوں کے کردار کو اچھا نہیں سمجھتے اور وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین سے خائف نظر آتے ہیں اور ان کے ساتھ شادی سے گریز کرتے ہیں۔ کچھ مرد ان معاملات میں تنگ ذہن ہوتے ہیں کہ ان کی بیوی ان سے زیادہ پڑھی لکھی یا زیادہ کمانے والی ہو۔ ان کے خیال میں لڑکی ایسے شوہر کی عزت نہیں کرتی۔ جو کہ سراسر ایک غلط سوچ ہے۔ تعلیم یافتہ اور باشعور خواتین کی تعریف اگر انکے شوہروں کے سامنے کی جائے تو وہ احساس کمتری میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اگرچہ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں ۔ بہت سے گھرانوں میں لڑکوں کے ساتھ لڑکیوں کی تعلیم پر بھی پوری توجہ دی جاتی ہے لیکن معاشرے میں اکثر ایسے واقعات پیش آ جاتے ہیں جہاں اعلی تعلیم ایک بچی کی شادی کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ اکبر الٰہ آبادی  نے فرمایا تھا:

تعلیم عورتوں کی ضروری تو ہے مگر
خاتونِ خانہ ہوں سبھا کی پری نہ ہوں

فطرت نے دونوں اصناف کی ذمہ داریاں تقسیم کی ہوئی ہیں۔ اس کے مطابق نظام چلتا رہے تو بہتر ہوتا ہے۔ بچیوں کی تعلیم کی اہمیت سے انکار نہیں لیکن ایسی تعلیم جو امورِخانہ داری میں مفید ثابت نہ ہو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ کیوں کہ گھر اور اس کا ماحول بنانے کی ذمہ داری بالآخر خواتین کی ہی ہوتی ہے۔
ہمارے معاشرے میں شادی کے مسائل روز افزوں بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔ بات لڑکیوں کے والدین کی ہو یا لڑکوں کے، دونوں کو ہی مناسب رشتے نہ ملنے کی شکایت ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں دس لاکھ سے زائد بڑی عمر کی بچیوں کے والدین ان کے لئے اچھے رشتوں کی تلاش میں ہیں۔ دیکھا جائے تو معاشرے کی اس پسماندگی کی وجہ بھی تعلیم سے دوری ہی ہے۔ ان مسائل سے نمٹنے کے لئے انفرادی کوششوں کے ساتھ ساتھ حکومت اور سماجی ادارو ں کو بھی کام کرنا ہو گا اور لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کے لئے مناسب اقدامات کرنا ہوں گے۔ سمپل رشتہ شادی کا ایک آن لائن پلیٹ فارم ہے جو تیزتر سروس اور بہترین رشتہ کی تلاش کے لئے ایک ابھرتا ہوا نام ہے۔ تمام شہروں سے والدین یا خواتین اور حضرات خود رجسٹریشن کرکے ان کی قابل اعتماد رشتہ سروس کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔