کہا جاتا ہے کہ مرد اور گھوڑے کبھی بوڑھے نہیں ہوتے۔ مزاح سے قطع نظر دیکھا جائے تو اس بات میں کافی حد تک حقیقت ہے۔ ایک مرد پر زمانے کی مشکلات اثر انداز ہو کر اسے اس طرح سے کمزور نہیں کرتیں، جیسا ایک عورت کو کرتی ہیں۔ شادی کے بعد نان نفقہ کی ذمہ داری مرد پر اور گھر سنبھالنے کی ذمہ داری عورت کی ہوتی ہے۔ مرد کی ذمہ داریوں میں اس طرح سے اضافہ نہیں ہوتا۔ جیسے ایک خاتون کی ذمہ داریاں بڑھتی ہیں۔ پہلے گھر اور افراد خانہ کی ذمہ داری۔ بچے ہو جانے کے بعد ان کی دیکھ بھال اور تعلیم و تربیت سب خاتون خانہ کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ شادی شدہ جوڑوں میں بے وفائی اکثر شادی کے چند سال گزر جانے کے بعد ہوتی ہے۔

چالیس پینتالیس کی عمر کو پہنچنے تک عورت کی ذمہ داری دوگنا ہو چکی ہوتی ہے۔ جبکہ مرد کسی حد تک سیٹل ہو چکا ہوتا ہے۔ اس پر کام اور ذمہ داریوں کا بوجھ اتنا نہیں ہوتا جتنا اس کی شریک حیات پر ہوتا ہے۔ بیوی دس سے پندرہ سال میں اپنی عمر سے بڑی ہو جاتی ہے۔ جبکہ مرد پھر سے جوان ہونا شروع ہوتا ہے۔

بیوی عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں اور سماجی معاملات میں مصروف ہوتی چلی جاتی ہے۔ کچھ کسر ٹی وی شوز اور موبائل فون پوری کر دیتا ہے۔ اکثریت اپنے شوہر کے ساتھ اس طرح کا جذباتی یا رومانوی تعلق قائم نہیں رکھ پاتی۔ جیسا شوہر توقع کرتے ہیں۔ اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مرد دوسری خواتین کی طرف راغب ہو جاتا ہے۔

شادی کے بعد اپنے شریک حیات سے بے وفائی کسی بھی مذہب اور معاشرے میں انتہائی ناپسندیدہ فعل گردانا جاتا ہے۔ بے وفائی خواہ جسمانی ہو یا جذباتی، فریقین کے لے نقصان کا باعث ہوتی ہے۔ نہ صرف فریقین بلکہ دو خاندان اس سے پیدا ہونے والی تباہی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ شادی شدہ جوڑوں میں بے وفائی کی وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں۔

مشہورماہر نفسیات گیری نیومین نے اس موضوع پر ایک کتاب شائع کی ہے۔ جس کا نام ہے۔ ”بے وفائی کے بارے میں سچ“۔

گیری نیومین کا کہنا ہے کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ مرد اپنی جنسی خواہشات کی تکمیل کیلئے بے وفائی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ حقیقت کچھ اور ہے۔ لوگ جتنا سمجھتے ہیں، مرد اس سے زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ ہرمرد جسمانی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے بے وفائی نہیں کرتا۔ بلکہ اکثریت اپنی جذباتی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے بے وفائی کا مرتکب ہوتی ہے۔

شادی شدہ جوڑوں میں بے وفائی کی بڑی وجہ شریک حیات کا اپنے جیون ساتھی کی جذباتی ضروریات کا خیال نہ رکھنا ہے۔ اور اس تحقیق میں ایک دلچسپ بات یہ سامنے آئی کہ اسی فیصد مرد جنہوں نے اپنی شریک حیات کے علاوہ دوسری خواتین کے ساتھ تعلقات قائم کئے۔ وہ خواتین ان کی موجودہ ہمسفر سے کم خوبصورت تھیں۔ اس سے یہ بات واضح ہوئی کہ شادی شدہ جوڑوں میں بے وفائی کی وجہ جسمانی خوبصورتی نہیں ہے۔

دیکھا جائے تو اگر شادی شدہ جوڑوں میں بے وفائی کا مرتکب اگرمرد ہو رہا ہے۔ تو کہیں نہ کہیں کوئی عورت بھی بے وفائی کر رہی ہے۔ لیکن تنقید کا نشانہ ہمیشہ مرد بنتے ہیں۔ خواتین کی اکثریت یہ جانتے ہوئے بھی کہ مرد شادی شدہ ہے۔ اس کے ساتھ جسمانی نہ سہی تو جذباتی تعلقات بنا لیتی ہیں۔ بقول بشیر بدر

کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی

یوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا

بے وفائی میں پہل ضروری نہیں کہ مرد کی طرف سے ہو۔ کچھ خواتین بھی اپنی محرومیوں کا بدلہ کسی دوسرے سے جذباتی تعلق بنا کر لیتی ہیں۔

شادی شدہ جوڑوں میں بے وفائی کا بڑھتا تناسب: وجوہات اور حل

روایتی گھرانوں میں شادی شدہ جوڑوں کی بے وفائی صرف جنسی رابطے کو ہی سمجھا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جسمانی یا جنسی بے وفائی سے زیادہ مہلک جذباتی بے وفائی ہے۔ جہاں ایک شریک حیات اپنے جذبات کسی اور سے منسوب کر کے اپنے اصل شریک حیات کو اس خوشی سے محروم کر دیتا ہے۔

ٹیکنالوجی کی ترقی، نت نئی سوشل میڈیا ایپ اور انٹرنیٹ کے عام استعمال نے اس چیز کو بڑھاوا دیا ہے۔ لوگ وقت گزاری یا دیگر مفادات کے لئے ایسے تعلقات بنا لیتے ہیں۔ جسمانی بے وفائی کی نسبت جذباتی بے وفائی سے نمٹنا شادی شدہ جووں کے لئے زیادہ مشکل ہے۔

جو نہ صرف ان کے رشتے کو خطرے میں ڈالتا ہے۔ بلکہ اس کی لپیٹ میں بعض اوقات ان کی اولاد بھی آ جاتی ہے۔

انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی کی ترقی سے پہلےجذباتی بے وفائی کسی دوسرے شخص سے غیر مناسب قربت رکھنے۔ یا پھر نا مناسب خیالات اور احساسات کے تبادلے کو سمجھا جاتا تھا۔ جو ایک شریک حیات کے خیال میں صرف اسی تک محدود رہنے چاہیے۔

لیکن سوشل میڈیا ایپس نے لوگوں کے لئے باہمی تعلقات کے نئے دروازے کھول دئیے ہیں۔ جس کی وجہ سے تعلقات کی ازسرنو تعریف کرنا پڑ رہی ہے۔ ان ایپس نے نہ صرف ڈھکے چھپے رابطوں کا آسان ذریعہ فراہم کر دیا ہے۔ بلکہ اس کے لئے نت نئے طریقے بھی موجود ہیں۔

آپ کا ایک کمنٹ کسی دوسرے کو آپ کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ ایموجی جو تبصروں کی زینت یا مختصر پیغام پہنچانے کی نیت سے شیئر کئے جاتے ہیں۔ ان ایموجیز کا کوئی غلط مطلب لے سکتا ہے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ ایسا کرنے کو لوگ غلط نہیں سمجھتے۔ شادی شدہ جوڑوں میں بے وفائی ان نت نئی ایپس کی بدولت بڑھ رہی ہے۔

سمارٹ فونز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی وجہ سے ایسے اقدامات نہایت آسان ہو گئے ہیں۔ جوکسی بھی شخص کے لئے جذباتی بے وفائی کا راستہ ہموار کر سکتے ہیں۔ جیسا کہ توجہ حاصل کرنے کی خاطر کسی انجان شخص کی تصویر پر تبصرہ کرنا۔ کسی آشنا کے ساتھ رابطہ بحال کرنا۔ یا پھر کسی اجنبی سے بحث کرنا۔

پرانے وقتوں میں کسی مرد کے کالر پر لپ اسٹک کا داغ، شرٹ پر چپکا بال۔ ںامانوس پرفیوم کی خوشبو یا جیب سے برآمد شدہ کوئی محبت کا خط ہی اس جانب اشارہ کرتا تھا۔ کہ آپ کا شریک حیات آپ سے بے وفائی کر رہا ہے۔ لیکن سوشل میڈیا ایپس نے بے وفائی کا تصور اور تعریف یکسر تبدیل کر دی ہے۔ مغربی ممالک کی قائم کردہ ڈیٹنگ ایپس نے معاملہ زیادہ الجھا دیا ہے۔

چند دہائیاں پہلے لوگ محبت بھرے خطوط اور ڈائریاں سب سے چھپا کر رکھتے تھے۔ لیکن آج کل جدید آلات اور ایپس کی بدولت آپ کو اپنے خیالات کسی دوسرے تک پہنچانے کے لئے زیادہ تگ و دو نہیں کرنا پڑتی۔

مرد خواتین سے بے مقصد گفت و شنید کوغلط نہیں گردانتے۔ اور سمجھتے ہیں کہ دوستی میں کوئی ہرج نہیں۔ ڈیٹنگ کی دنیا میں ایک لفظ "مائکرو چیٹنگ” کی اصطلاح کافی معروف ہے۔ جو اکثر لوگوں کے نزدیک بے وفائی نہیں بلکہ شرارت ہے۔ لیکن یہ شرارت ازدواجی زندگی کے لئے کتنی خطرناک ہو سکتی ہے۔ اس کا اندازہ لگانا آسان نہیں۔ بقول داغ دہلوی۔

اڑ گئی یوں وفا زمانے سے

کبھی گویا کسی میں تھی ہی نہیں

قصہ مختصر یہ کہ زمانی کتنی ہی ترقی کیوں نہ کر لے۔ موبائل فونز اور سوشل میڈیا تک رسائی کتنی ہی آسان کیوں نہ ہو۔ اگرآپ اخلاقی طور پر مضبوط اور دینی قوانین پر عمل پیرا ہیں۔ اورشادی کے بعد صرف بیوی سے ہی جسمانی اور جذباتی لگاؤ رکھنے کو جائز سمجھتے ہیں۔ تو آپ ایک خوشگوار، صحت مند اور اچھی ازدواجی زندگی گزار سکتے ہیں۔ اور ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ کیونکہ اخلاقی اور مذہبی طور پر کمزور شخص ہی اپنی بے لگام خواہشات کو پورا کرنے کے لئے عارضی سہارے ڈھونڈتا ہے۔ جس کا انجام شادی شدہ جوڑوں میں بے وفائی اور اس کے بعد رشتوں کے ٹوٹنے پر منتج ہوتا ہے۔