fbpx

برطانوی میڈیا کے مطابق چند ماہرین نے "گھوسٹ بوٹ” کے نام سے ایک ایپلی کیشن تیار کی ہے جووفات پا جانے والے افراد کی تصاویر، آواز، سوشل میڈیا پوسٹ کے علاوہ ان کے ٹو دی اور تھری ڈی ماڈل بھی بنائے گی۔ دیکھنے اور سننے والوں کو یوں محسوس ہو گا کہ وہ شخص واقعی سکرین پر ان کے ساتھ بات کر رہا ہے۔ اس سے جو بات کی جائے گی وہ اس کا جواب بھی دے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ایپ کے ذریعے لوگ اپنے مرحوم دوستوں اور رشتہ داروں سے بات کر سکیں گے۔

ایک طرف ایسے لوگ ہیں جو اپنے مرحوم رشتہ داروں کو دل میں بسائے ہوئے ہیں اوربذریعہ نت نئی ایجادات، ان سے بات کرنے اور ان تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دوسری طرف وہ ہیں، جن کی نظر میں اپنے قریب موجود زندہ رشتوں کی بھی کوئی اہمیت نہیں ۔۔ ماہرین کی نت نئی ایجادات اور انٹرنیٹ کے عام ہونے سے دنیا بھرمیں جہاں انقلابات برپا ہوئے، برقیاتی رابطے میں آسانی ہوئی، سوشل میڈیا اور ویب سائٹس سے سماجی اور بین الاقوامی تعلقات میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے کو ملا، وہیں اس کا نتیجہ رشتوں میں دراڑوں کی صورت نکلا ہے ۔۔ ٹیکنالوجی میں اتنی ترقی سے پہلے جب یہ موبائل فون، ای میل، فیس بک یا واٹس ایپ وغیرہ نہیں تھے، خط و کتابت کے ذریعے ایک دوسرے کی خبر گیری کی جاتی تھی ۔۔ یا ملاقاتوں کا اہتمام ہوتا تھا ۔ لیکن اب اس کی جگہ سوشل میڈیا نے لے لی ہے۔ اہم تقریبات کے دعوت نامے بھیجنے ہوں، کسی کی تعزیت کرنی ہو یا عیادت ۔۔ سب برقی پیغامات کے ذریعے ہو رہا ہے ۔۔ رشتہ کی تلاش ہو یا شادی ، سب کام ان لائن ہو رہے ہیں۔ ان ایجادات نے میلوں کے فاصلے کم کرنے کے ساتھ ساتھ دلوں میں دوریاں پیدا کر دی ہیں ۔۔ اس سے پہلے رشتوں میں اتنی پیچیدگیاں بھی نہیں تھیں ۔۔ کوئی مشکل درپیش آتی تھی تو معاملہ گھر کے بڑے اور قریبی رشتہ حل کر دیا کرتے تھے۔ یوں گھر کی بات گھر میں ہی رہ جاتی تھی ۔۔ لیکن اب صورتحال مختلف ہے ۔۔ ذرا سی رنجش کی اطلاع فیس بک یا واٹس ایپ کے ذریعے دور دراز کے رشتہ داروں تک بھی پہنچ جاتی ہے ۔۔ اور نت نئے مشورے ملنے اور ان پر عمل کی صورت میں معاملہ بعض اوقات بگڑ جاتا ہے ۔۔ کسی کے مسئلہ پر تبادلہ خیال کرنا ہر کوئی اپنا فرض سمجھتا ہے، متاثرین کو سمجھانے کے بجائے ایسے مشوروں سے نوازا کیا جاتا ہے ہے کہ جو ان کی زندگی میں نقصان کا باعث بنتے ہیں ۔۔ اوراکثر تو یہ سلسلہ تب تک جاری رہتا ہے جب تک طلاق یا خلاء کی صورت رشتہ ختم نہ ہو جائے ۔۔ نوبیاہتا جوڑوں کی زندگی پر خاص کر اس کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

خاندان میں کسی بچی یا بچے کے لئے ضرورت رشتہ کی بات ہوتی تو گھر کے بڑے بزرگ اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے ان کا مناسب رشتہ تلاش کرتے اورشادی تک کے تمام انتظامات اور اخراجات میں بھرپو مدد کرتے ۔۔ لیکن آج کل اصراف اور نمود و نمائش اس قدر بڑھ گئی ہے کہ گھر کے بزرگوں کو پرانے خیالات کے حامی قرار دے کر تمام معاملات سے الگ کر دیا جاتا ہے۔

ٹیکنالوجی کی اس ترقی نے ہماری زندگیوں پر جہاں مثبت اثرات ڈالا ہے وہیں منفی اثرات بھی دیکھنے کو ملے ہیں ۔۔ سوشل میڈیا کے ہاتھوں مغلوب ہماری نوجوان نسل ان میں مصروف ہو کر اپنے خونی اور قریبی رشتوں سے الگ ہو چکی ہے ۔۔ اس سوشل میڈیائی دور میں ماں باپ کے پاس بچوں کے لئےوقت نہیں اور بچوں کے پاس اپنے والدین کے لئے ۔۔ نفسا نفسی کے اس دور میں رشتوں کا لحاظ، ادب، پاس سب ختم ہو چکا ہے ۔۔ رشتہ ماں باپ کا اولاد سے ہو، بہن کا بھائی سے یا شوہر کا بیوی سے، ہماری پہچان ہیں، اور ان سے منہ نہیں موڑا جا سکتا ۔۔ ان کی ہماری زندگی میں سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی سے زیادہ اہمیت ہے ۔۔ لیکن آج کل لوگ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی بھول بھلیوں میں اتنا کھو گئے ہیں کہ کسی کے پاس بات یا ملاقات تو کجا، سوچنے کی بھی فرصت نہیں رہی ۔۔ ان ایجادات پر ایک کلک اگر ہمیں ہزاروں لاکھوں انجان لوگوں سے ملا رہا ہے تو دوسری طرف اپنوں سے دور بھی کر رہا ہے ۔۔

سوشل میڈیا نے لوگوں کو اظہاررائے کی آزادی دی تو ہر کوئی اپنے محدود علم کے ساتھ دانشور بننے کی کوشش میں ہے۔ جس کا نتیجہ لوگوں میں اختلافات اور دوریوں کی صورت نکل رہا ہے۔

ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کی بدولت اپنے پیاروں سے دوری اور تنازعات بھی ایک تلخ حقیقت ہے۔ جس سے نہ صرف رشتے اور تعلق بلکہ بعض اوقات زندگیاں بھی خطرے میں پڑ جاتی ہیں ۔۔ ایجادات کی بھرمار، اسلامی اقدار سے دوری، اور والدین کی عدم توجہی اور حقائق سے چشم پوشی کی بدولت کم عمر بچوں کے ذہن میں منفی خیالات اور جذبات پرورش پا رہے ہیں ۔۔ جس کا عملی مظاہرہ ہم جرائم میں اضافے، انتہا پسندی اور اخلاقی بے راہ روی کی صورت میں دیکھ سکتے ہیں ۔۔

ماضی میں لوگوں کے درمیان محبت اور احترام کا مضبوط رشتہ قائم تھا ۔۔ لوگ اپنے پیاروں پر اعتبارکرنے، کسی بھی مشکل میں انکی مدد کرنے اور ان کے دکھ درد میں شریک ہونا اپنا فرض سمجھتے تھے ۔۔ اپنے تو اپنے، غیروں کے لئے بھی ہمدردی، ایثار اور قربانی سے دریغ نہیں کیا جاتا تھا ۔۔ کٹھن وقت میں بنا کہے سب ایک دوسرے کی مدد کے لئے سب تیار ہوتے تھے ۔۔ لیکن جوں جوں دنیا ترقی کی منازل طے کرتی جا رہی ہے، رویے تبدیل ہوتے جا رہے ہیں ۔۔ لوگ اپنی زندگیوں میں اس قدر مصروف ہوچکے ہیں کہ ان کے متعلقین اور رشتہ دار کسی الجھن یا پریشانی میں مبتلا ہیں اس بات کی انہیں خبر ہی نہیں ہوتی ۔۔ یہ ہمارے معاشرے کا بہت بڑا المیہ ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی ایجاد بری نہیں ہوتی، بس اس کا بے محابا استعمال نقصان دہ ہوتا ہے۔۔ ہماری نوجوان نسل جو اعلی تعلیم اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں اپنی قابلیت کا لوہا منوا رہی ہے، اس بات کو مدنظر ضرور رکھے کہ اپنی ان کامیابیوں اور زمانے کے ساتھ شانہ بشانہ چلنے کی خواہش میں کھو کرکہیں اپنا اصل نہ کھو دے اور اپنے پیاروں سے دور ہو کر تنہا نہ رہ جائے۔