بچوں کی شادی اور رشتہ تلاش کرنا مشکل سہی لیکن ناممکن کام نہیں۔ بس پختہ ایمان اور قسمت پر یقین ہونا چاہئیے۔ آج کل تو انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی کی بدولت شریک حیات آن لائن تلاش کرنا نہایت آسان ہو گیا ہے۔

شریک حیات آن لائن یا آف لائن تلاش کرنا:

ہر نسل، دور، مذہب اور معاشرے نے شادی کی اہمیت اور ضرورت پر زور دیا ہے۔ گزرتا وقت جہاں بہت آسانیاں لے کر آیا ہے۔ وہاں شادی جیسی ناگزیر ضرورت میں کچھ مشکلات کا باعث بھی بنا ہے۔

پہلے وقتوں میں شریک حیات آن لائن تلاش کرنے کا تصور نہیں تھا۔ خاندان کے بڑے اور بزرگ اپنی ترجیحات کے مطابق بچے اور بچیوں کا رشتہ طے کر دیتے تھے۔ جس پر اختلاف کا حق خاندان میں کسی کو، خاص کر نوجوان نسل کو نہیں ہوتا تھا۔ گھر کے بزرگ جس کے ساتھ ان کا رشتہ طے کر دیتے تھے۔ وہ قبول کرنا پڑتا تھا۔

اس دور کے لوگوں میں صبر اور برداشت کا مادہ بھی زیادہ تھا۔ اور بزرگوں کا ادب اور ان کے سامنے اختلاف یا بحث سے بھی گریز کیا جاتا تھا۔ بعض اوقات رشتے بے جوڑ بھی ہوتے تھے۔

جیسے کہ لڑکا تعلیم یافتہ ہے تو اس کا رشتہ خاندان کی ہی کسی غیر تعلیم یافتہ لڑکی سے طے کر دیا جاتا تھا۔ یا اکثر کسی تعلیم یافتہ لڑکی کی نسبت خاندان کے ہی کسی ان پڑھ لیکن مالی طور پر مضبوط گھرانے میں طے کر دی جاتی تھی۔

جن جوڑوں نے صبر، برداشت اور ہمت سے کام لیا وہ دوسروں کے لئے مثال بنے۔ لیکن جنہوں نے ایسے بے جوڑ رشتے کو دل سے قبول نہ کیا۔ ان کا انجام علیحدگی یا طلاق کی صورت میں ہوا۔

پھر ایک وقت آیا کہ ضرورت رشتہ کا دائرہ وسیع ہوا۔ اور اس رواج سے بغاوت کرتے ہوئے کچھ گھرانوں نے خاندان کی بجائے باہر رشتے ڈھونڈنے شروع کر دئیے۔ جو ظاہر ہے ایک مشکل اور وقت طلب کام تھا۔ پھر اس مسئلے کا حل رشتے کروانے والی خواتین کی صورت میں نکلا۔ یہی  اقدام آگے چل کر شریک حیات آن لائن تلاش کرنے کا پیش خیمہ بھی ثابت ہوا۔

ان خواتین کا اثر و رسوخ پہلے تو گلی محلوں کی حد تک تھا۔ لیکن آہستہ آہستہ دوسرے شہروں اور ملکوں تک پھیلنے لگا۔ یہ خواتین رشتے دکھاتیں اور اپنی خدمات کے عوض ہزاروں روپے بٹور لیتیں۔ کچھ خواتین نے خدا خوفی سے کام لیا۔ لیکن اکثریت پیسوں کے لالچ میں آ کر اپنی چکنی چپڑی باتوں سے یہ طرفین کو سبز باغ دکھاتیں۔ اور بغیر کسی تصدیق کے رشتہ طے کروا دیتیں۔ پھر بعد میں یہ رشتہ نبھے یا نہیں۔ انہیں اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی تھی۔

شادی کے خواہشمند افراد اور والدین کے لئے یہ ایک پریشان کن بات تھی۔ لیکن دنیا میں ہر مشکل کا حل موجود ہے۔ اس مشکل سے نمٹنے کے لئے میرج بیورو اور آن لائن رشتہ کروانے والے ادارے سرگرم ہوئے۔ اور شریک حیات آن لائن تلاش کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔

ابتداء میں لوگوں کے لئے ان اداروں کو قبول کرنا مشکل تھا لیکن جیسے جیسے وقت گزر گیا ان کی تعداد بڑھتی گئی جو آج ہزاروں لاکھوں میں ہے۔ اور یہ ادارے رشتے کروانے والی خواتین کی نسبت بہتر کام کر رہے ہیں۔ بے شک کافی تعداد میں یہ ادارے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ ان اداروں یا آن لائن رشتوں کی تلاش کیسے کی جائے۔

سوشل میڈیا کے ذریعے:

ٹیکنالوجی کے اس دور میں سوشل میڈیا کی اہمیت اور ضرورت سے کسی کو انکار نہیں۔ فیس بک، ٹویٹر، انسٹاگرام اور واٹس ایپ جیسے ذرائع اب صرف تفریح کے لئے استعمال نہیں ہوتے۔ اگر یہ کہا جائے کہ سوشل میڈیا الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا سے بھی زیادہ مقبول ہے تو غلط نہ ہو گا۔

تعلیم یافتہ لوگ ہوں یا غیر تعلیم یافتہ، شہر ہو یا گاؤں لوگوں کی ایک بڑی تعداد سوشل میڈیا سے منسلک ہے۔ یہاں خبریں اور معلومات کا ذخیرہ لوگوں تک بذریعہ ای میل یا بلاگز پہنچ جاتا ہے۔

بس آپ کو اس بلاگ یا ویب سائٹ میں اندراج کی ضرورت ہے۔ یا کسی بھی خبر کو مقبول کرنے کے لئے ان ذرائع پر ایک پوسٹ کی صورت شیئر کرنے کی ضرورت ہے۔ جہاں سے یہ ایک سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے فرد تک پہنچ جاتی ہے۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ترقی سے انسان اپنے گھر بیٹھے وقت ضائع کئے بغیر لمحوں میں دنیا بھر کے سوشل میڈیا اور لوگوں سے رابطہ کر سکتا ہے۔ یہاں میرج بیورو اور آن لائن رشتہ کروانے والے ادارے بھی کسی سے پیچھے نہیں۔ وہ بھی سوشل میڈیا کو اپنے اداروں کی تشہیر کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ اورامیدواروں کے لئے شریک حیات آن لائن تلاش کرنے کا ایک ذریعہ بنتے ہیں۔  بس آپ کو ایسے ادارے تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

ذاتی روابط کے ذریعے:

آج کل آن لائن رشتے حاصل کرنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ عوام میں اس حوالے سے شعور بڑھ رہا ہے۔ اگر آپ کے کسی دوست یا رشتے دار نے کسی ایسے ادارے کی خدمات حاصل کی ہیں۔ ایک اچھا رشتہ  اور شریک حیات آن لائن تلاش کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ تو وہ لازماً اس ادارے سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔ اور دوسروں کو ان سے رابطہ کے لئے کہیں گے۔

یوں اچھے اداروں کی تشہیر خود بخود ہو جاتی ہے۔ اور جن لوگوں کا اس حوالے سے تجربہ اچھا نہیں رہا۔ وہ دوسروں کو اس بارے میں ضرور آگاہ کریں گے۔ تو آپ کے ذاتی روابط بھی آن لائن رشتے کی تلاش میں آپ کے مددگار ہو سکتے ہیں۔

شادی دفاتر یا ویب سائٹس کے ذریعے:

شادی دفاتر میں ذاتی طور پر جا کر اندراج کروانے کے علاوہ آپ ان اداروں کی ویب سائٹس سے بھی استفادہ کر سکتے ہیں۔ جہاں آپ اپنی مکمل تفصیلات فراہم کر کے اپنی ترجیحات کے مطابق رشتہ حاصل کر سکتے ہیں۔

اس موضوع پر آپ ہمارا دوسرا بلاگ بھی پڑھ سکتے ہیں۔ کہ کیسے رشتہ ویب سائٹس اور میرج بیورو کے ذریعے رشتے کی تلاش وقت اور پیسے کی بچت کرتی ہے۔

آن لائن شادی کا طریقہ کار چونکہ عام طور پر رائج طریقوں سے مختلف ہے۔ آپ کو گھر بیٹھے اپنی پسند اور ترجیحات کے مطابق رشتہ مل جاتا ہے۔ اور آپ شریک حیات آن لائن تلاش کر سکتے ہیں۔  لیکن اس کے لئے بھی زیادہ سے زیادہ لوگوں سے روابط اور آپ کا سماجی طور پر فعال ہونا بہت ضروری ہے۔

سورہ یٰسین میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔۔

"وہ خدا پاک ہے جس نے زمین کی نباتات کے اور خود ان کے اور جن چیزوں کی ان کو خبر نہیں، سب کے جوڑے بنائے”

اللہ نے ہر انسان کا جوڑ بنایا ہے۔ جو مقررہ وقت پر یقیناً اسے مل جائے گا۔ بس صبر اور یقین سے تلاش جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔

سمپل رشتہ ایک ایسا ہی ادارہ ہے۔ جو رشتہ اور شریک حیات آن لائن تلاش کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ یہ ادارہ صرف رشتے کی تلاش میں ہی آپ کی مدد نہیں کرتا۔ بلکہ امیدواروں کے تمام کوائف اور دستاویزات کی تصدیق کا عمل بھی پوری ذمہ داری سے سر انجام دیتا ہے۔ اور یہی چیز انہیں دوسرے اداروں سے ممتاز بناتی ہے۔ بہترین رشتے کے لئے اس لنک پر جائیے اور رجسٹریشن کیجئے۔